راولپنڈی ڈویژن کے تعلیمی شعبے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پانچ اضلاع کے چیف ایگزیکٹو افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خالد نذیر وٹو نے کی، جبکہ چیف منسٹر ٹاسک فورس کے چیئرمین مزمل محمود اور رکن شکیل بھٹی بھی شامل تھے۔
اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے اسکولوں میں درکار سہولیات جیسے کلاس رومز، واش رومز، پینے کے صاف پانی، بجلی، فرنیچر اور چار دیواری کے لیے دی گئی فنڈنگ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ہر ضلع کو فراہم کردہ رقم اور اس کے مصرف کی صورتحال جاننے کے لیے متعلقہ تفصیلات طلب کی گئیں۔ چیف ایگزیکٹو افیسر ایجوکیشن راولپنڈی، طارق محمود نے منصوبہ وار اخراجات کے حوالے سے بریفنگ پیش کی اور ہر سکیم پر مکمل معلومات فراہم کیں۔
اجلاس کے دوران بعض اہم معاملات پر فوری ہدایات بھی جاری کی گئیں تاکہ فنڈز کے مؤثر اور شفاف استعمال کے ساتھ ساتھ پورے عمل میں احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن نے خاص طور پر تمام سی ای اوز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اضلاع میں سکول انفارمیشن سسٹم (SIS) ڈیٹا کی خامیوں کو فوری طور پر درست اور مکمل کریں، کیونکہ یہ سسٹم اسکولوں کی کارکردگی، طلبہ و اساتذہ کی معلومات اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
سیکرٹری سکول ایجوکیشن نے واضح کیا کہ غلط یا تاخیری ڈیٹا نہ صرف پالیسی سازی بلکہ فنڈنگ میں بھی مسائل پیدا کرتا ہے، لہٰذا ڈیٹا کی درستگی کو اولین ترجیح دی جائے۔ اس حوالے سے فوری اور بروقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس کو تعلیم کے شعبے میں جاری اسکیموں اور فنڈز کے شفاف استعمال کے حوالے سے ایک عملی قدم قرار دیا گیا۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ تعلیم حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ راولپنڈی ڈویژن کے اسکولوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
