خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلاب نے گھروں، اسکولوں اور پینے کے پانی کے نظام کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں کئی خاندان بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔ تاہم، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف، خیبر پختونخوا حکومت اور برطانیہ کے تعاون سے، سیلاب کے بعد ریاست میں پانی سپلائی کے نظام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق دوبارہ تعمیر کیا گیا، جس سے مقامی آبادی کو محفوظ پانی فراہم کیا گیا۔
حالیہ سیلاب کے دوران جہاں کئی علاقوں کا پانی کا نظام ناکام ہو گیا، وہاں جدید اور مضبوط ڈھانچوں کے باعث ان علاقوں میں بچوں اور خاندانوں کو محفوظ پانی کی فراہمی جاری رہی۔ اس اقدام نے نہ صرف صحت کے مسائل کو کم کیا بلکہ مقامی مکینوں کی مشکلات کو بھی کافی حد تک کم کیا۔
برطانیہ کے تعاون سے یونیسف نے ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر فوری امدادی سامان بھی پہلے سے تیار کر کے رکھے، جس کے باعث سوات اور بونیر میں متاثرہ خاندانوں کو صحت و صفائی کے خصوصی کٹس فوری طور پر تقسیم کیے گئے۔ اس اقدام سے بچوں کو پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد ملی۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے منصوبے نہ صرف آبادی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں بلکہ صحت اور وقار کے پہلوؤں پر بھی نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سیلاب زدہ علاقوں کے بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ اور مضبوط مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
