اسلام آباد میں پی ایچ اے ایف کی شجرکاری مہم ایک بیٹی ایک شجر

newsdesk
3 Min Read

پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (پی ایچ اے ایف) نے وفاقی وزارت برائے ہاؤسنگ و تعمیرات اور وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے اشتراک سے اسلام آباد کے کری روڈ پر واقع رہائشی منصوبے میں "ایک بیٹی، ایک شجر” کے عنوان سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد معاشرتی تحفظ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا ہے۔

شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب کی صدارت وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ و تعمیرات میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کی، جبکہ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر شزہ علی خان کھرل نے اس مہم کا باقاعدہ آغاز پودا لگا کر کیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر اس رہائشی منصوبے کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی نے چھ سو پودے فراہم کیے ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شکار ہے، اور حالیہ سیلاب اور قدرتی آفات جنگلات کی کٹائی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نہ صرف درخت لگانا، بلکہ ان کی حفاظت کرنا سب کی قومی ذمہ داری ہے اور اس سے بڑھ کر ضروری ہے۔ انہوں نے پی ایچ اے ایف کے سی ای او شاہد حسین اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی شجرکاری مہمات کو تمام رہائشی سوسائٹیز میں اپنانا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی اور دیگر اداروں پر زور دیا کہ شجرکاری کو اپنی معمول کی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں، تاکہ ہر رہائشی سوسائٹی میں ماحولیاتی پائیداری کو اولین ترجیح دی جا سکے۔

وزیر مملکت ڈاکٹر شزہ منصب علی خان کھرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مہم نہایت بروقت ہے، کیونکہ درخت آفات کے دوران ماحول کے تحفظ، پانی کی سطح برقرار رکھنے اور زمین کو جڑوں سے مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قدرتی آفت کی تباہ کاری قابل دید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کو بیٹیوں اور خواتین کے نام سے منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شجرکاری ہی موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو کم کرنے کا موثر حل ہے۔ پاکستان دنیا میں کم ترین اخراج کے باوجود سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، اس لیے موسمیاتی انصاف کے حصول کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شزہ نے پائیدار طرز زندگی اور موسمیاتی موافق پالیسیوں کے فوری نفاذ پر زور دیا تاکہ پائیدار اور مضبوط مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے