معروف مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے درمیان ایک غیر معمولی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں انتھروپک نے اوپن اے آئی کی اپنی کلود اے پی آئی تک رسائی بند کر دی ہے۔ انتھروپک کا الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے کلود ماڈل کا استعمال اپنے آنے والے جی پی ٹی 5 کی تیاری اور کوڈنگ سیفٹی کے حوالے سے کیا، جو مقابلے کے ضوابط کے خلاف ہے۔
ذرائع کے مطابق اوپن اے آئی کے انجینئرز نے کلود کوڈ کا استعمال جی پی ٹی 5 کے لیے سیفٹی اور پروگرامنگ کی جانچ کے مقصد سے کیا۔ انتھروپک نے اس عمل کو اپنی شرائط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جن میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ کمپنی کا ماڈل حریف مصنوعات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
کمپنی نے اس پابندی کے باوجود یہ عندیہ دیا ہے کہ حفاظتی ٹیسٹ یا تحقیقاتی مقاصد کے لیے کچھ محدود رسائی برقرار رکھی جا سکتی ہے، تاہم اوپن اے آئی کے لیے کلود ماڈل کا اندرونی طور پر استعمال مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جی پی ٹی 5 کی آمد کے تناظر میں یہ فیصلہ صرف اخلاقیات کا مسئلہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور طاقت کی جنگ کا مظہر بھی ہے۔یہ تنازع ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دو بڑی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ اب نئے مراحل میں داخل ہو رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
