پاکستان اور یوکرین کے مابین ثقافتی و ورثہ کا تعاون

newsdesk
3 Min Read

پاکستان اور یوکرین نے ثقافتی اور ورثے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے مشترکہ پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ عوامی روابط کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگ زیب خان کھچی نے یوکرین کے سفارتخانے کی فرسٹ سیکرٹری اوکسانا پتریایوا سے ملاقات میں یوکرین کی جانب سے مختلف تجاویز کو خوش آئند قرار دیا۔ اوکسانا پتریایوا نے نیشنل لائبریری آف پاکستان میں ‘یوکرینی بک کارنر’ کے قیام کی تجویز دی، جس کے ذریعے پاکستانی عوام کو یوکرین کے ادب، ثقافت اور تاریخ سے روشناس کرایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی مہمان نوازی کو سراہتے ہیں اور یوکرین پاکستان کے ساتھ عوامی سطح پر روابط کو مزید مستحکم کرنے کا خواہش مند ہے۔

وفاقی وزیر اورنگ زیب خان کھچی نے اس موقع پر نہ صرف یوکرینی تجاویز سے بھرپور تعاون کا وعدہ کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک فوکل پرسن مقرر کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یوکرین کے درمیان پہلے سے موجود ثقافتی، ادبی اور سماجی معاہدوں کو وسعت دے کر نئے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

وزیر نے یوکرین کو لوک ورثہ کے سالانہ لوک میلہ میں خصوصی پویلین لگانے اور اپنے کھانوں، دستکاری و فنون عوام کے سامنے پیش کرنے کی دعوت بھی دی۔ ساتھ ہی یہ پیشکش بھی کی کہ کراچی اور لاہور کی گیلریاں یوکرینی فنون کی نمائش کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اوکسانا پتریایوا نے پاکستان کے تاریخی مقامات جیسے موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے دورے میں دلچسپی ظاہر کی اور یوکرینی فنکاروں اور فلموں کو پاکستان میں متعارف کرانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی ہے اور تمام متعلقہ ادارے یوکرینی ثقافتی سرگرمیوں میں مکمل معاونت فراہم کریں گے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ثقافتی تعاون کو تیز اور مزید مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ ورثے کی بنیاد پر پاکستان اور یوکرین کے تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہوں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے