ابسار الحق ستی نے 40 سال کی عمر میں سپریم کورٹ کا لائسنس حاصل کر لیا، وکلاء برادری کیلئے مثالی کامیابی

newsdesk
2 Min Read

اسلام آباد (نیئر نوید) پاکستان کی وکلاء برادری ابسار الحق ستی کی شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کر رہی ہے، جنہوں نے صرف 40 سال کی عمر میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کا معتبر لائسنس حاصل کر لیا ہے۔ یہ سنگ میل ان کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور عدالتی اخلاقیات سے وابستگی کا ثبوت ہے، جو ملک بھر کے نوجوان وکلاء کیلئے ایک متاثرکن مثال ہے۔

ابسار الحق ستی نے 2007 میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم اے ایل ایل بی (شریعت و قانون) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ سول، فوجداری اور عائلی قوانین میں مہارت رکھتے ہیں۔ 2008 میں وکالت کا آغاز کرتے ہی انہوں نے مضبوط دلائل، پُراثر وکالت اور پیشہ ورانہ طرز عمل سے عدالتوں اور موکلین کا اعتماد جیت لیا۔

ہائی کورٹ میں تیرہ سال کی مسلسل کامیابی کے بعد ابسار الحق ستی نے اپنے کیرئیر میں ایک نیا سنگ میل عبور کیا اور سپریم کورٹ میں وکالت کا لائسنس حاصل کر لیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ذاتی فتح ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ قانون کے شعبے میں محنت، تحقیق اور دیانت داری کے ساتھ ہر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سینئر وکلاء اور قانونی ماہرین نے اس کامیابی کو نوجوان وکلاء کے لیے ایک تحریک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابسار الحق ستی کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قانون کے شعبے میں مستقل مزاجی، قانون پر عبور اور عدالتی اصولوں کی پاسداری کامیابی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کی کامیابی اس پیغام کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ وکالت میں بہترین مقام محنت، مہارت اور انصاف کے ساتھ وابستگی سے حاصل ہوتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے