ایچ ای سی میں مالی بے قاعدگیاں اور فنڈز کا ضیاع بے نقاب

3 Min Read

اسلام آباد (ندیم تنولی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پر سرکاری فنڈز کے غیر محتاط استعمال، مالی بدانتظامی اور کئی سنگین انتظامی خامیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ آڈٹ رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ ایچ ای سی نے کروڑوں روپے کی رقوم غیر منظور شدہ پروگراموں، اعلیٰ حکام کو ناجائز مراعات دینے اور غیر ملکی سکالرز سے رقم کی وصولی میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز (این آر پی یو) کے تحت ایچ ای سی نے 2012-13 میں 42 کروڑ 62 لاکھ روپے بغیر کسی باضابطہ منظور شدہ پالیسی کے خرچ کیے۔ اس فنڈ کے اجرا، منصوبوں کی منظوری اور عملے کے انتخاب کے حوالے سے کوئی واضح رہنما اصول وضع نہیں کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے اس خرچ کی شفافیت مشکوک ہو گئی۔ اگرچہ ایچ ای سی نے بعد ازاں پالیسی منظور کروا لی اور محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی سے معاملہ نمٹانے کی سفارش بھی حاصل ہوئی، مگر پی اے سی نے اسے انتظامی امور میں بڑی خامی قرار دیا۔

کمیٹی نے مزید نشاندہی کی کہ ایچ ای سی جنوبی کوریا بھیجے گئے 13 اسکالرز سے 97 لاکھ روپے اور چار لاکھ چھ ہزار ڈالر کی وصولی میں ناکام رہا۔ یہ تمام اسکالرز اس شرط پر گئے تھے کہ واپسی پر سرکاری شعبے میں کم از کم دو سال خدمات سرانجام دیں گے، تاہم کسی نے بھی اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور ادارے کی جانب سے اتنی تاخیر سے وصولی کی کوششیں ہوئیں کہ سات کیسز مدت پوری ہونے کے باعث ختم ہوگئے۔

ایک اور معاملے میں ایچ ای سی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر جاوید آر لغاری کی نجی اسلام آباد کلب کی ممبرشپ کے لیے سرکاری خزانے سے 10 لاکھ روپے کی غیرقانونی ادائیگی کی گئی۔ اس میں سے پانچ لاکھ پچھتر ہزار روپے ان کی گریجویٹی سے واپس وصول کیے گئے، جبکہ بقیہ چار لاکھ پچیس ہزار روپے آج تک ادا نہیں ہوئے، حالانکہ اس حوالے سے 26 بار یاد دہانی بھی کرائی گئی۔

علاوہ ازیں ایچ ای سی نے اپنے ملازمین کو خصوصی الاونس کی مد میں 76 لاکھ 27 ہزار روپے کی ادائیگیاں کیں، حالانکہ وزارت خزانہ کے احکامات کے مطابق یہ مراعات صرف وفاقی وزارتوں یا ڈویژن کے ملازمین کو دی جا سکتی ہیں، جبکہ ایچ ای سی اس زمرے میں نہیں آتا۔ یہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر غور ہے۔

اجلاس کی صدارت ایم این اے شاہدہ بیگم نے کی اور کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایچ ای سی اپنے مالی اور انتظامی معاملات میں سختی سے نظم و ضبط اختیار کرے، تمام زیر التوا وصولیاں فوری یقینی بنائے اور سرکاری قواعد کے مطابق ہی مالی فیصلے کرے تاکہ عوامی وسائل کا تحفظ ہو سکے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے