اسلام آباد (ندیم تنولی) سرکاری میڈیا اداروں کو شدید مالی بحران اور بدانتظامی کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اور ریڈیو پاکستان (پی بی سی) دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی غفلت اور متضاد پالیسیوں کے باعث ملک کے یہ قومی نشریاتی ادارے شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جہاں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور مالی وسائل کی کمی جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں۔
پی ٹی وی کے مالی بحران کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کی جانے والی 35 روپے لائسنس فیس کا خاتمہ ہے، جس سے ادارہ ہر سال تقریباً 11 ارب روپے کی آمدنی سے محروم ہو گیا۔ اس بنیادی ذریعہ آمدن کے ختم ہونے سے پی ٹی وی دیوالیہ ہو چکا ہے اور عارضی طور پر بقا کیلئے وزارت خزانہ سے 3.8 ارب روپے کے ایمرجنسی پیکج کی درخواست کی گئی ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر پی ٹی وی کے ملازمین پر پڑا ہے، خصوصاً کنٹریکٹ اور یومیہ اجرت والے عملے کو کروڑوں روپے کی تنخواہیں کئی ماہ سے ادا نہیں ہو سکیں۔ ادارے کے 480 ملین روپے کے ماہانہ بل میں سے 143 ملین روپے تاحال ادا نہیں کیے گئے۔ بعض ملازمین تین ماہ سے تنخواہوں کے منتظر ہیں۔ مستقل ملازمین اور پنشنرز کو بھی تاخیر کا سامنا ہے۔ سکیورٹی گارڈز کو بھی تین ماہ کی خدمات کے عوض 190 ملین روپے میں سے صرف 62 ملین روپے مل سکے ہیں۔
مالی دباؤ کم کرنے کی خاطر پی ٹی وی نے ملازمین کے میڈیکل الاؤنس میں کٹوتی کر دی ہے اور انہیں نجی ہسپتالوں کی بجائے سرکاری ہسپتالوں جیسے پمز یا پولی کلینک بھیجا جا رہا ہے۔ صرف ایمرجنسی کیسز میں شفا انٹرنیشنل یا سی ایم ایچ جانے کی اجازت ہے، جس سے عملے میں مزید بے چینی پھیل گئی ہے۔
ان مشکل حالات کے باوجود، کمیٹی اس وقت حیران رہ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ پچھلے پانچ برس میں پی ٹی وی نے 541 نئے ملازمین بھرتی کیے ہیں، جن میں 176 مستقل اور 365 کنٹریکٹ پر ہیں۔ انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ تبدیلیاں ڈیجیٹل میڈیا کی ضروریات کے تحت کی گئیں۔ تاہم کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر نے اس اقدام کو غیر ذمہ دارانہ اور بدانتظامی کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔ انہوں نے "بیٹے/بیٹی کوٹہ” کی پالیسی پر بھی سخت تنقید کی، جس کے ذریعے ماضی میں عملہ بھرتی ہوتا رہا، اگرچہ انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ سلسلہ اب بند کیا جا چکا ہے۔
بحران سے نمٹنے کیلئے وزارت اطلاعات نے مختلف اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جن میں ڈائریکٹرز کیلئے غیر ضروری مراعات، اخباری سبسکرپشن اور مہنگے ہوٹلوں کے اخراجات ختم کرنا، بایومیٹرک حاضری اور جعلی ڈگری والے عملے کی برطرفی شامل ہیں۔ پی ٹی وی اسپورٹس کو پاکستان کرکٹ بورڈ سے معاہدے کے ذریعے خودمختار بنایا جائے گا، پی ٹی وی ورلڈ کو سینئر صحافی طلعت حسین کی رہنمائی میں بہتری کی کوشش کی جا رہی ہے اور پی ٹی وی ہوم کو نجی شعبے کے سپرد کرنے پر بھی غور ہے۔ اس کے علاوہ حکومت ختم ہو جانے والے اداروں جیسے ایس آر بی سی/اے ٹی وی اور نافڈیک کو دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔
دوسری جانب ریڈیو پاکستان بھی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ادارے کے ملازمین کو گذشتہ دو وفاقی بجٹ میں اعلان کردہ مکمل تنخواہ اضافہ نہیں مل سکا۔ 2023 میں پانچ ماہ کا بقایاجات رکا رہا، جس میں سے تین ماہ کی ادائیگی ادارے نے اپنی سیونگز سے کی، جبکہ باقی دو ماہ تاحال ادا نہیں ہوئے۔ 2024 کے اضافہ میں صرف ایک ماہ کی ادائیگی ہوئی، باقی گیارہ ماہ کے بقایاجات بقایا ہیں۔ پی بی سی کی مالی بقا اب مکمل طور پر حکومتی مالی امداد پر منحصر ہے۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے ریڈیو پاکستان کراچی کی جائیداد کے غلط استعمال اور تاریخی ورثے کی بربادی کی نشاندہی بھی کی۔ انہوں نے ایم اے جناح روڈ پر تاریخی عمارت کی فوری بحالی اور اسے قومی میوزیم میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید یہ کہ قائد آباد میں پی بی سی کی رہائشی جائیداد میں بجلی چوری ہو رہی ہے، جبکہ بلز ادارے کو دیے جا رہے ہیں۔ حیران کن طور پر ریڈیو پاکستان اپنی ذاتی زمین رکھنے کے باوجود کراچی میں ایف ایم نشریات ایک کرائے پر لی گئی عمارت کی بارہویں منزل سے نشر کر رہا ہے۔
کمیٹی نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ دونوں ادارے اور وزارت خزانہ فوری طور پر تحریری طور پر تفصیلی رپورٹ اور اصلاحاتی منصوبہ پیش کریں، جس میں تنخواہوں کی ادائیگی، ریاستی اثاثوں کی حفاظت اور مالی بحالی کے واضح اقدامات متعین کیے جائیں۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو بدانتظامی اور مالی بحران نہ صرف اداروں کی تباہی بلکہ ملک کے قومی میڈیا کے مستقبل کے لیے بھی شدید خطرہ بن جائے گا۔

