پاکستان کی آئی ٹی صنعت اور فری لانس کمیونٹی کے اہم رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملکی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ایک خصوصی ریگولیٹری سیل قائم کرے، جو اس شعبے کی نگرانی اور ترقی پر توجہ مرکوز کرے۔ اس تجویز کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شازہ فاطمہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جس میں کئی اہم سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندے شریک ہوئے۔
اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے سیکریٹری اور بڑی آئی ٹی آرگنائزیشنز کے سربراہان نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت آئی ٹی شعبے کے لیے مخصوص اور ہدفی قوانین اور ڈھانچہ جاتی سہولیات مہیا کرے تو اس سے اس شعبے میں ترقی کی رفتار بڑھ سکتی ہے، ورک فورس کی مہارتیں بہتر بن سکتی ہیں اور ڈیجیٹل برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران مرکزی سفارش یہ سامنے آئی کہ سافٹ ویئر کمپنیوں اور فری لانسرز کے بارے میں صحیح اور مکمل ڈیٹا جمع کرنے کا نظام وضع کیا جائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جب تک کمپنیوں کی تعداد، عملے کی تفصیل، مہیا کی جانے والی سروسز، برآمدات کی مقدار، ٹیکس ادائیگی اور عالمی مارکیٹ میں شمولیت کے بارے میں جامع معلومات نہ ہوں، تب تک مؤثر پالیسیاں بنانا یا حکومتی اقدامات کے نتائج جانچنا ممکن نہیں۔
اجلاس میں فری لانس معیشت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا جو پاکستان میں تیزی سے فروغ پانے والا ڈیجیٹل سیکٹر ہے۔ گروپ نے اس شعبے کے لیے بھی منظم ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سفارش کی، جس میں فری لانسرز کی آمدن، مہارتیں، فراہم کردہ سروسز، اسناد اور علاقائی تقسیم شامل ہو۔ اس طرح کے ڈیٹا سے انفارمڈ اور جامع پالیسی سازی میں مدد ملے گی اور دیہی و دور دراز علاقوں کے ریموٹ کارکنان بھی حکومتی فوائد سے مکمل طور پر مستفید ہو سکیں گے۔
مالی امور میں بہتری کے لیے، ورکنگ گروپ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے آر فارم (جو کہ غیر ملکی کرنسی کی لین دین کے لیے استعمال ہوتا ہے) کو جدید اور سہل بنانے کی بھی سفارش کی۔ نئے آر فارم سے بیرون ملک سے آنے والی آمدن اور مالی معاملات کی بہتر نگرانی اور شفافیت ممکن ہوگی، جس کا براہ راست فائدہ فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں کو ہوگا۔
یہ سفارشات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔ موثر نگرانی اور جامع ڈیٹا اکٹھا کرنے سے حکومت ملکی آئی ٹی پالیسیوں کو حقیقی ضرورتوں اور عالمی رجحانات کے مطابق ڈھال سکے گی، جس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ ملک کے آئی ٹی پروفیشنلز کو بھی عالمی مارکیٹس میں بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
