اسلام آباد (ندیم تنولی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک اجلاس میں ملک بھر میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے غیرقانونی نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام اضلاع اور صوبوں کی تفصیلات فراہم کرے جہاں مقامی پولیس نے قانونی دائرہ اختیار کے بغیر PECA کے تحت مقدمات درج کیے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب صحافی رہنما آصف بشیر چودھری نے کمیٹی کو اس وسیع بے ضابطگی سے آگاہ کیا۔
آصف بشیر چودھری نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں پولیس اسٹیشنز باقاعدگی سے PECA کے تحت غیرقانونی سائبر کرائم کے مقدمات درج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف چند مقدمات تک محدود نہیں بلکہ ایسے درجنوں ایف آئی آرز ہر کچھ دنوں میں مختلف علاقوں سے سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہر تین سے چار دن میں دو یا تین مقدمات کی خبریں موصول ہوتی ہیں جو مقامی پولیس نے درج کیں حالانکہ انہیں صرف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) درج کر سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بہاولپور کے ایک واقعے کا ذکر کیا جس میں ایک صحافی کو سڑکوں کی تعمیر میں بدعنوانی کو بے نقاب کرنے پر PECA کے تحت نشانہ بنایا گیا۔
اس موقع پر وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری نے اعتراف کیا کہ PECA کے تحت مقدمات درج کرنے کا قانونی اختیار صرف NCCIA کو حاصل ہے۔ کسی بھی مقامی پولیس اسٹیشن کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ اس انکشاف کے بعد صحافتی حلقوں میں قانونی تحفظات میں اضافہ ہوا ہے کہ مقامی پولیس کو ایسے مقدمات درج کرنے کی اجازت کس طرح مل رہی ہے۔ اس پر سینیٹر سید علی ظفر نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ پورے ملک سے غیر مجاز طور پر درج ہونے والے PECA کے تمام مقدمات کی جامع رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔
کمیٹی نے اس موقع پر ادارہ جاتی ڈھانچے کی شدید خامیوں کی نشاندہی کی، جسے انہوں نے "مثلثی عدم فعالیت” قرار دیا۔ مقامی پولیس، NCCIA اور وزارت داخلہ کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان پایا جاتا ہے۔ NCCIA کو اگرچہ PECA کے تحت مقدمات درج کرنے کی قانونی طاقت حاصل ہے، مگر وہ ہزاروں مقامی پولیس اسٹیشنز پر کنٹرول نہیں رکھتی، جو اکثر سیاسی اثر و رسوخ کے تحت ازخود کارروائی کر لیتے ہیں اور یوں وفاقی اختیارات کو پامال کرتے ہیں۔
مزید برآں، وزارت داخلہ کی جانب سے اکثر عدالتی یا پارلیمانی سوالات پر دائرہ اختیار کا جواز پیش کر کے ذمہ داری سے گریز کیا جاتا رہا ہے، جس پر سینیٹرز نے سخت تنقید کی۔ اراکین نے کہا کہ اس رویے سے PECA کا غلط استعمال مزید بڑھ رہا ہے اور صحافی دونوں طرف سے دباؤ اور ہراسانی کا شکار ہیں۔ اس دوہری قانونی عملداری کے نتیجے میں ڈیجیٹل سینسرشپ اور جسمانی ہراسانی بڑھ گئی ہے جبکہ صحافت کیلئے قانونی تحفظ بہت کم رہ گیا ہے۔
اختتام پر کمیٹی نے وزارت داخلہ اور NCCIA سے مطالبہ کیا کہ وہ PECA کے تحت غیر قانونی طور پر درج ہونے والے تمام مقدمات کا مکمل اور جامع ڈیٹا فراہم کریں۔

