5 اگست کشمیر کی جدوجہد اور حقوق کی خلاف ورزی

newsdesk
2 Min Read

کشمیری عوام کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ 5 اگست بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی علامت ہے اور اس دن کو یومِ استحصال کے طور پر منانا کشمیریوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔

اپنے پیغام میں ہارون اختر خان نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان بھارت کے غیر قانونی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔

معاونِ خصوصی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور میڈیا پر پابندیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر کھلا حملہ ہے اور اس دن کو یاد رکھنا ان کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

ہارون اختر خان نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور یہ حمایت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہو جاتا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم کا نوٹس لے اور انصاف کی فراہمی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔

ہارون اختر خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ 5 اگست کشمیری عوام کی بے مثال قربانیوں کو یاد کرنے اور ان کی جائز جدوجہد سے یکجہتی کے عزم کو دہرانے کا دن ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے