تعلیم پاک چین تعلقات کے نئے باب کی بنیاد بنے گی، وجیہہ قمر

newsdesk
8 Min Read
ایچ ای سی اور چائنا میڈیا گروپ کے اشتراک سے پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر یوتھ فورم کا انعقاد کیا گیا۔

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی) کے اشتراک سے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے چائنا پاکستان یوتھ فورم کا انعقاد کیا۔ فورم کا عنوان “Echo: Youth in Action” تھا۔

فورم کا مقصد پاکستانی نوجوانوں، ماہرین تعلیم، طلبہ اور متعلقہ فریقوں کو بامعنی مکالمے اور تبادلہ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ پروگرام میں سی ایم جی کی دستاویزی فلم “Echo” کی نمائش، چینی جامعات سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ کے تجربات کا تبادلہ اور نوجوانوں و چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق گفتگو شامل تھی۔

وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی وزیر مملکت وجیہہ قمر تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیا الحق، ایچ ای سی کی ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ اینڈ گلوبل انگیجمنٹ ڈویژنز عائشہ اکرام، چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چینگ پینگ، چائنا میڈیا گروپ کے نمائندوں، ماہرین تعلیم، طلبہ اور دیگر متعلقہ افراد نے فورم میں شرکت کی۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات جغرافیائی حدود سے بالاتر ہیں اور بدلتے وقت اور عالمی حالات کے امتحان میں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کی دوستی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ برابری، باہمی اعتماد، عدم مداخلت، امن اور وقار پر قائم رشتہ ہے۔

سی پیک کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ پاک چین تعلقات کا آئندہ بڑا باب تعلیم، ہنر، جامعات، تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک معیاری تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینا کافی نہیں بلکہ انہیں ہنر، نظم و ضبط، اعتماد اور ایسے مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں جن سے وہ مفید پیشہ ور افراد، رہنما اور مواقع پیدا کرنے والے بن سکیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان چین تعلقات کے مستقبل کا تحفظ صرف حکومتیں نہیں کر سکتیں، اس میں دونوں ممالک کے نوجوانوں، اہل علم، محققین اور پیشہ ور افراد کا کردار بھی بنیادی ہوگا۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اس تعلق کو محض ورثے کے طور پر قبول نہ کرے بلکہ اسے سمجھے، خلوص کے ساتھ مزید مضبوط بنائے اور حوصلے و عزم کے ساتھ آگے لے کر چلے۔

اپنے خطاب میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے پاکستانی اور چینی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی جامعات نے سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کے تحت متعدد چینی جامعات کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایچ ای سی ایسے انتظامات کو عملی اور مؤثر تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ چینی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع تلاش کریں اور جدید ٹیکنالوجیز سے آگاہی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور علم کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے۔ پچھتر برس کے دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دوستی باہمی محبت اور احترام سے مزید مضبوط ہوئی ہے۔

اس موقع پر عائشہ اکرام نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر قائم ہے۔ انہوں نے تعلیم کو اقوام کے درمیان سب سے مؤثر پل قرار دیا اور کہا کہ چینی جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ عوامی روابط اور باہمی فہم کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

عائشہ اکرام کے مطابق طلبہ کے تبادلے کے پروگرام، مختلف شعبوں میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے ساتھ مل کر، نوجوانوں اور ماہرین تعلیم کے لیے ایک دوسرے سے سیکھنے اور مشترکہ چیلنجز کے حل مل کر تخلیق کرنے کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چینگ پینگ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک خاص دوستی ہے جو دونوں ملکوں کے عوام کے گہرے رشتوں پر قائم ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ دیرینہ دوستی مزید فروغ پائے گی اور دونوں اقوام کو روشن مستقبل کی طرف لے جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل پاک چین دوستی کا مستقبل ہے۔

چینگ پینگ نے پاکستانی نوجوانوں کو ترغیب دی کہ وہ چینی ثقافت کو گہرائی سے سمجھیں، جس میں چینی زبان سیکھنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ثقافتی ہم آہنگی، دوستی اور عالمی امن کے فروغ میں کردار ادا کریں۔

اس سے قبل اپنے خیرمقدمی کلمات میں سی ایم جی سے وابستہ معروف میڈیا شخصیت تصور زمان بابر نے پاک چین تعلقات کو بے مثال قرار دیا اور کہا کہ تعلیم ہی ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا راستہ ہے۔ انہوں نے چینی جامعات کے معیار اور تعلیمی ماحول کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طلبہ کے لیے چین کے تعلیمی تجربے کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر حسنات شاہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سینٹر آف ایکسیلنس سی پیک (PIDE)، ڈاکٹر خالد تیمور اکرم، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان ریسرچ سینٹر فار کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر، اور پاکستان و چین کے سابق طلبہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات سے پیدا ہونے والے مواقع کو آگے منتقل کرنے کے لیے مسلسل اور شعوری کوششیں ضروری ہیں۔

شرکا نے تعلیم میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاک چین دیرینہ دوستی کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں، تعلیم، تعلیمی تبادلوں، ثقافتی رابطوں اور عوامی سطح کے تعلقات کی اہمیت کو نمایاں کیا۔

فورم اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے سیکھنے، تعاون کرنے اور مشترکہ مستقبل میں کردار ادا کرنے کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے اور پاک چین تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

Share This Article