فیڈرل ٹیکس محتسب کا عوامی مفاد کی درخواستوں پر سماعت سے انکار، دائرۂ اختیار کی حدود واضح
اسلام آباد: فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO) نے قرار دیا ہے کہ عوامی مفاد کی درخواستوں (Public Interest Litigation – PIL) کی سماعت اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتی، کیونکہ ایسے معاملات آئینی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نہ کہ انتظامی فورمز کے۔
فیڈرل ٹیکس محتسب نے شکایت نمبر 01540، 01545 اور 01550/LHR/IT/2026 پر اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ ادارہ ٹیکس انتظامیہ کی بدانتظامی اور انفرادی شکایات کے ازالے کا مجاز ہے، تاہم وہ ایسے عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت نہیں کر سکتا جو فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے تحت اس کے قانونی اختیارات سے باہر ہوں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مذکورہ شکایات عوامی مفاد کی درخواستوں کی نوعیت کی تھیں، جن میں ٹیکس انتظامیہ سے متعلق عمومی نوعیت کی بدانتظامی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ محتسب نے قرار دیا کہ یہ کسی مخصوص ٹیکس دہندہ کی شکایت نہیں بلکہ عمومی نوعیت کے معاملات ہیں، اس لیے ان کی سماعت فیڈرل ٹیکس محتسب کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن آئینی عدالتوں کا قانونی طریقہ کار ہے اور ایسے معاملات قانونی طور پر سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس جیسے اعلیٰ عدالتی فورمز کے سامنے اٹھائے جا سکتے ہیں، نہ کہ فیڈرل ٹیکس محتسب جیسے قانونی اداروں کے سامنے۔
فیڈرل ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں اس اصول پر زور دیا کہ پاکستان کا ہر ادارہ صرف انہی اختیارات کے تحت کام کر سکتا ہے جو اسے قانون نے دیے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نیک نیتی سے کی جانے والی کارروائی بھی قانون کے مقرر کردہ دائرۂ اختیار سے تجاوز نہیں کر سکتی۔
فیصلے کے مطابق فیڈرل ٹیکس محتسب کا کردار صرف ان معاملات تک محدود ہے جہاں ٹیکس حکام کی جانب سے تاخیر، غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا ٹیکس دہندگان کے ساتھ غیر منصفانہ رویے کی شکایات سامنے آئیں۔
البتہ محتسب نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی اعلیٰ عدالت کی جانب سے ٹیکس انتظامیہ میں بدانتظامی سے متعلق کوئی معاملہ اس کے پاس بھیجا جائے تو وہ قانون کے مطابق اس کی تحقیقات کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ دائرۂ اختیار (Jurisdiction) ہر عدالتی اور نیم عدالتی ادارے کی بنیاد ہے اور آئینی نظام میں قانونی حدود کا احترام کرنا ناگزیر ہے۔
فیڈرل ٹیکس محتسب نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ادارے اپنے اختیارات میں اضافہ کرکے نہیں بلکہ قانون کے تحت دیے گئے اختیارات کی مکمل پابندی کرکے قانون کی حکمرانی کو مضبوط بناتے ہیں۔
فیڈرل ٹیکس محتسب نے دائرۂ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر شکایات مسترد کر دیں، تاہم فیصلے میں مستقبل کے مقدمات کے لیے یہ رہنمائی بھی فراہم کی گئی کہ انفرادی ٹیکس شکایات اور عوامی مفاد کے معاملات میں واضح فرق موجود ہے اور دونوں کو قانون کے مطابق متعلقہ فورمز پر ہی اٹھایا جانا چاہیے۔
یہ فیصلہ آئندہ ٹیکس دہندگان، ٹیکس حکام اور شکایت کنندگان کے لیے ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے یہ وضاحت ہوگی کہ کس نوعیت کے مقدمات فیڈرل ٹیکس محتسب کے سامنے قابلِ سماعت ہیں۔
فیڈرل ٹیکس محتسب کے اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی قانونی اصول کی توثیق کی ہے کہ سرکاری ادارے صرف اپنے قانونی دائرۂ اختیار کے اندر رہ کر ہی کام کر سکتے ہیں، جبکہ عوامی مفاد کی درخواستوں کی سماعت آئینی عدالتوں کا اختیار ہے۔ اس فیصلے سے مستقبل میں پالیسی نوعیت کے معاملات اور انفرادی ٹیکس شکایات کے درمیان فرق مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
