پشاور میں منعقدہ ایک تربیتی نشست کے دوران خیبر پختونخوا اطلاعاتی کمیشن کے نمائندے شعیب احمد نے کہا کہ حقِ معلومات کے مؤثر نفاذ کے ذریعے صنفی تشدد کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ قانون شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب معلومات تک رسائی آسان ہو تو معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات بھی اپنے قانونی حقوق، دستیاب سہولتوں اور حکومتی پالیسیوں سے بہتر طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔یہ خیالات انہوں نے غیر سرکاری تنظیم میرا گھر نیٹ کی جانب سے سماجی بہبود کے محکمے خیبر پختونخوا کے تعاون سے خواتین کے لیے قائم ڈیسکوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے منعقدہ تربیت کے دوران ظاہر کیے۔ اس موقع پر پشاور میں مختلف اضلاع سے آنے والے شرکا کو صنفی امور سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی، جب کہ حقِ معلومات کے عملی استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی۔شعیب احمد نے کہا کہ حقِ معلومات ہر شہری کو مساوی حیثیت دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے سرکاری خدمات، مواقع اور سہولتوں تک رسائی میں شفافیت پیدا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق معلومات تک برابری کی بنیاد پر رسائی معاشرے میں اعتماد کو بڑھاتی ہے اور خواتین سمیت تمام طبقات کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بہتر راستہ فراہم کرتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا اطلاعاتی کمیشن خواتین ڈیسکوں کی معاونت کے لیے خصوصی تربیت فراہم کرنے اور حقِ معلومات کے درخواست فارم مہیا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ نچلی سطح پر معلومات کے حصول کی طلب کو مضبوط کیا جا سکے۔ ان کے مطابق جب مقامی سطح پر درست معلومات میسر ہوں تو نہ صرف قانونی شعور بڑھتا ہے بلکہ صنفی تشدد جیسے مسائل کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔
