پارلیمنٹ سے اپیل غیرصحت بخش اشیاء پر ٹیکس نافذ کریں

newsdesk
5 Min Read
مری میں قومی ہارٹ ایسوسی ایشن نے بڑھتے غیرواگیر امراض کے پیشِ نظر پارلیمنٹ سے غیرصحت بخش اشیاء اور میٹھے مشروبات پر سخت ٹیکس کا مطالبہ کیا۔

پناہ کا ارکانِ پارلیمنٹ سے غیر صحت بخش پراسیس شدہ مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کا مطالبہ، غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش

مری: پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) میں تیزی سے ایک سنگین وبائی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ملک میں 41 فیصد سے زائد بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ 3 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سال 2050 تک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 7 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

اس عوامی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پاناہ) نے مری میں بجٹ کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک آگاہی و مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کا مقصد غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو اجاگر کرنا اور صحت مند غذائی عادات کے فروغ اور بیماریوں کے خطرات میں کمی کے لیے شواہد پر مبنی پالیسیوں کی پارلیمانی حمایت حاصل کرنا تھا۔

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شازیہ اسلمہ سومرو، شاہدہ رحمانی، رمیش لال، نذیر احمد بگھیو، صادق علی میمن، حاجی رسول بخش چانڈیو، خورشید احمد جونیجو، ثمینہ خالد گھرکی، صوفیہ سعید، رانا انصار، مسرت رفیق، ریاض فتیانہ، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی، محمد سعد اللہ، اویس جاکھر، سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار چیمہ، معظم علی خان اور پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن سمیت دیگر معزز شرکاء نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پناہ نے نشاندہی کی کہ غیر صحت بخش غذائی عادات، خصوصاً ایسی الٹرا پراسیسڈ مصنوعات کا استعمال جن میں چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار حد سے زیادہ ہوتی ہے، موٹاپے، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دیگر غیر متعدی امراض کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔ پناہ نے اس بات پر زور دیا کہ غیر صحت بخش مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنا ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور شواہد پر مبنی مؤثر حکمتِ عملی ہے، جو ان مصنوعات کے استعمال میں کمی اور عوامی صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

پناہ نے فنانس بل 2026-27 میں حکومت کی جانب سے متعدد الٹرا پراسیسڈ مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنے کے فیصلے
کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے غیر صحت بخش اشیاء کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ تاہم تنظیم نے بعض نسبتاً صحت بخش غذائی اشیاء پر ٹیکس عائد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ مالیاتی پالیسیاں سائنسی شواہد اور صحت عامہ کے اصولوں کی بنیاد پر مرتب کی جائیں۔

پناہ نے ارکانِ پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام میٹھے مشروبات (Sweetened Beverages) اور دیگر الٹرا پراسیسڈ مصنوعات پر صحت عامہ کے تحفظ کے لیے مؤثر ٹیکسوں سمیت مضبوط مالیاتی اقدامات کی حمایت کریں۔ ایسے اقدامات بیماریوں کے بوجھ میں کمی، صحت کے اخراجات میں بچت اور عوامی صحت کے منصوبوں کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

اجلاس میں شریک ارکانِ پارلیمنٹ نے پاکستان میں غیر متعدی امراض کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر تمام ارکانِ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر وزیرِ خزانہ کے نام ایک سفارشی خط پر دستخط کیے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ فنانس بل میں میٹھے مشروبات، پیک شدہ اور تازہ پھلوں کے جوسز پر ٹیکس بڑھا کر 40 فیصد کیا جائے، جبکہ دیگر الٹرا پراسیسڈ مصنوعات پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کی جائے۔ مزید برآں، ارکان نے سگریٹ کے ہر پیکٹ مزید 30 روپے کا ٹیکس لگانے اور ہیٹڈ ٹوبیکو مصنوعات (Heated Tobacco Products) پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے