سول سوسائٹی، طبی انجمنوں اور مریضوں کی نمائندہ تنظیموں نے فنانس بل کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں الٹرا پروسیسڈ اشیاء پر سیلز ٹیکس کے اطلاق کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور اس پر اظہارِ حمایت کیا۔ تنظیموں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد محصولات کے حصول کے ساتھ ساتھ عوامی صحت میں بہتری لانا بھی ہے، بشرطیکہ صحت مند اشیاء جیسے بغیر میٹھا دودھ، لسی اور آٹا پر ٹیکس نہیں لاگو کیا جائے۔فنانس بل میں شامل کی گئی جن شقوں کا حوالہ دیا گیا ان میں چینی سے بنی مٹھائیاں، شیر خوار بچوں کے فارمولا، ساسز اور مصالحہ جات، پیک شدہ پاستا اور نوڈلز، پھلوں اور سبزیوں سے تیار کردہ جام اور پیوری، اور ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی سبزیاں اور خوردنی تیل شامل ہیں جن پر ممکنہ طور پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ اتحاد نے اس فیصلے کو فنانس بل کی منظوری کے بعد ایک مثبت پیش رفت قرار دیا مگر سنجیدہ خدشات کے اظہار کے ساتھ سفارش کی کہ یہ فیصلے سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں۔ماہرین نے زور دیا کہ الٹرا پروسیسڈ اشیاء کی درجہ بندی اور ٹیکس کی حد بندی کے لیے نوا نظامِ درجہ بندی اور عالمی ادارۂ صحت کی نمک، چینی، ٹرانس فیٹس، سیچوریٹڈ فیٹس اور غیر شوگر مٹھاس پیدا کرنے والے اجزاء سے متعلق سفارشات کو بنیاد بنایا جائے تاکہ پالیسی تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہو اور عوامی صحت کے فوائد واضح ہوں۔ ان ماہرین کے مطابق شواہد پر مبنی حکمتِ عملی حکومت کے لیے محصولات میں اضافہ بھی ممکن بنا سکتی ہے اور طویل مدت میں صحت کے بوجھ کو کم کر سکتی ہے۔اتحاد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام میٹھے مشروبات بشمول سافٹ ڈرنکس، پیک شدہ جوس، فلیورڈ دودھ، آئسڈ ٹی اور اسکواشز وغیرہ پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کو 40 فیصد تک بڑھایا جائے کیونکہ یہ مصنوعات ملک میں بڑھتی ہوئی غیر متعدی بیماریوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تنظیموں نے نشاندہی کی کہ پیک شدہ جوس عموماً قدرتی ریشہ نکالے جانے کے باعث تقریباً وہی مضر اثرات مرتب کرتا ہے جو چینی والے مشروبات کرتے ہیں، جس سے خون میں شکر کی تیزی اور ٹائپ ٹو ذیابیطس اور بچپن کے موٹاپے میں اضافہ ہو رہا ہے۔میجر جنرل ریٹائرڈ مسعود الرحمن کیانی جو ایک معروف ماہرِ امراضِ قلب ہیں، نے کہا کہ دل کی بیماریاں اور دیگر غیر متعدی امراض طرزِ زندگی سے وابستہ ہیں اور خوراک اس میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الٹرا پروسیسڈ اشیاء میں اضافی چینی، غیر صحت بخش چکنائیاں اور نمک زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں اور یہ مصنوعی اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں غذائی قدر نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان مصنوعات کے زیادہ استعمال کو موٹاپے، ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور بعض کینسرز سے مستقل جوڑ کر دیکھا گیا ہے۔منور حسین جو غذائیت اور صحت کی پالیسی کے ماہر ہیں، نے واضح کیا کہ ملکی سطح پر تجارتی مشروبات کی تیاری میں مجموعی پھلوں کی پیداوار کا محض محدود حصہ استعمال ہوتا ہے اور حقیقی زرعی معاونت ان غیر صحت بخش پیک شدہ جوسز کو فروغ دے کر حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کسانوں کے حق میں ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے جیسے شمسی توانائی سے چلنے والے کولڈ چین اسٹوریج اور تازہ پھلوں کے براہِ راست بازار تک رسائی کے نظام تاکہ چھوٹے کاشتکاروں کی معاشی حالت بہتر ہو۔ثناء اللہ گھمن نے خبردار کیا کہ خوراک و مشروبات کی صنعت کے بعض عناصر پالیسی سازوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ غیر صحت بخش مصنوعات کے لیے رعایت حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی کمپنیوں کی جانب سے پھل کم صنعتی نرخوں پر خریدنے کے عمل سے چھوٹے کسان متاثر ہوتے ہیں اور جب ٹیکس کے اقدامات سامنے آتے ہیں تو صنعتی حلقے کسانوں کے مفادات کا حوالہ دے کر عوامی رائے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے مفادات اور تدابیر کو بے نقاب کرنا ضروری ہے تاکہ شواہد پر مبنی فیصلے عوامی صحت کے مفاد میں کیے جائیں۔ہارٹ فائل، نوجوان کارکنان، سی پی ڈی آئی، پاکستان کڈنی پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن، ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان اور پاکستان فیملی فزیشنز ایسوسی ایشن سمیت متعدد سول سوسائٹی تنظیموں نے عوامی صحت کی بنیاد پر پالیسیاں بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں اور نجی شعبے سے اس ضمن میں مشترکہ کوششوں کا مطالبہ کیا۔ اتحاد نے امید ظاہر کی کہ الٹرا پروسیسڈ اشیاء پر ٹیکس کا فیصلہ غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام، عوامی صحت کے فروغ اور پائیدار ترقی کے ہدف نمبر تین کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔
