پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا مستقبل: مسئلہ کشمیر اور آبی تنازعات بدستور بڑی رکاوٹ قرار

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں سیمینار میں ماہرین نے پاکستان بھارت تعلقات، پانی، تجارت اور کشمیر کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محتاط حکمتِ عملی پر زور دیا۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا مستقبل: مسئلہ کشمیر اور آبی تنازعات بدستور بڑی رکاوٹ قرار

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام ’’پاکستان۔بھارت تعلقات کے مستقبل کی سمت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں سابق وفاقی وزیر خارجہ انجینئر خرم دستگیر خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے امریکہ۔ایران تنازع کے تناظر میں بین الاقوامی سطح پر اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں امریکہ کی نیک نیتی، عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں اضافہ اور پیچیدہ سفارت کاری کی صلاحیت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات میں ان مثبت عوامل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کا حل طلب تنازع، سرحد پار دہشت گردی کے الزامات، بھارت میں بڑھتی قوم پرستی، جوہری کشیدگی اور سندھ طاس معاہدے پر اختلافات مستقبل میں دونوں ممالک کو دوبارہ تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پانی کی تقسیم سے متعلق بڑھتی کشیدگی ایک ممکنہ بڑے تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مفاہمت اور محاذ آرائی دونوں پہلو موجود رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں اور اب بھارت میں بھی پاکستان پالیسی پر نظرثانی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بھارتی عسکری قیادت کا لہجہ اب بھی جارحانہ ہے، اس لیے پاکستان کو محتاط رہتے ہوئے جلد بازی کے بجائے ایک منظم اور بامقصد مذاکراتی عمل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

سابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ دونوں ممالک اس وقت تعطل ختم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے حالیہ مذاکراتی اشاروں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی مذاکراتی عمل میں اپنے قومی مفادات اور طویل المدتی اہداف کو ترجیح دینی چاہیے۔

سابق سفیر اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں پاکستان کے مستقل مندوب ڈاکٹر منظور احمد نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان دوطرفہ تجارت کو پہنچا ہے۔ انہوں نے ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت بحال ہونے کی صورت میں پاکستان کی برآمدات میں 80 فیصد تک اضافہ اور تقریباً 38 ارب ڈالر اضافی برآمدی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دیا جائے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مجیب افضل نے کہا کہ کشمیر تنازع دونوں ممالک کی قومی شناختوں کا حصہ بن چکا ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی فریق کے لیے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اقدام تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی مذاکرات، تنازعات کے پرامن حل اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے