پاکستان میں پانی کی دستیابی کم، سرمایہ کاری کا خلا بڑھنے لگا: اقوام متحدہ کی رپورٹ
اسلام آباد: اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کی دستیابی مسلسل کم ہو رہی ہے جبکہ شہری علاقوں میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (واش) کے شعبے میں سرمایہ کاری کا خلا بڑھتا جا رہا ہے، جس سے پانی کے تحفظ اور عوامی صحت کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
ورلڈ واٹر ڈے کی تقریبات کے سلسلے میں یونیسکو، عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسیف اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے اسلام آباد میں پانی سے متعلق تین اہم رپورٹس جاری کیں۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ، حکومتی نمائندوں، ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔
اقوام متحدہ کی ورلڈ واٹر ڈیولپمنٹ رپورٹ 2026 کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی 2.1 ارب افراد محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں، جبکہ 3.4 ارب افراد کو محفوظ صفائی کی سہولیات میسر نہیں۔ اس کے علاوہ 1.7 ارب افراد گھروں میں بنیادی حفظانِ صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 55 فیصد آبادی کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں رہنے والی 58 فیصد سے زائد آبادی محفوظ نکاسی و صفائی کی سہولیات سے محروم ہے۔
وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت ہر شہری کو سالانہ 5 ہزار مکعب میٹر سے زائد میٹھا پانی دستیاب تھا، جو اب کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکا ہے، جو ملک کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔
اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ پانی کے مسائل کے حل مقامی ضروریات اور مقامی علم کے مطابق جامع اور عملی ہونے چاہئیں تاکہ تمام طبقات مستفید ہو سکیں۔
اس موقع پر جاری کی گئی جی ایل اے اے ایس (GLAAS) 2025 رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں شہری علاقوں میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا خلا بڑھا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس خلا میں کچھ کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چاروں صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے مشترکہ واش بجٹ میں 2022 سے 2024 کے دوران 225 ارب روپے سے بڑھ کر 265 ارب روپے تک اضافہ ہوا، تاہم بلند افراطِ زر کے باعث حقیقی معنوں میں یہ بجٹ 20 فیصد کمی کا شکار رہا۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے زور دیا کہ پانی کا بحران سب کو متاثر کرتا ہے، تاہم اس کے اثرات خواتین اور بچیوں پر زیادہ پڑتے ہیں۔ عالمی سطح پر خواتین اور لڑکیاں روزانہ 25 کروڑ گھنٹے پانی لانے میں صرف کرتی ہیں، جو مردوں اور لڑکوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، جس کے منفی اثرات ان کی تعلیم، صحت اور معاشی مواقع پر پڑتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے مؤثر انتظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ پالیسیوں، بہتر گورننس، ادارہ جاتی تعاون اور پانی سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی زیادہ شمولیت کے ذریعے ہی پاکستان میں آبی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
