ویزا اسٹڈی: %82 پاکستانی صارفین خریداری کے لیے AI استعمال کرتے ہیں، لیکن چیک آؤٹ کے وقت اعتماد فیصلہ کن
• • پاکستان میں %82 صارفین نے خریداری میں مدد کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial Intelligence – AI) استعمال کی ہے، جبکہ %93 کے مطابق AI سے آن لائن شاپنگ تیز اور آسان ہو گئی ہے۔
• • %87 صارفین کا خیال ہے کہAI مستقبل میں فراڈ سے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا، تاہم آج صرف %42 صارفین مکمل خریداری کرنے کے AI ایجنٹس پر اعتماد کرتے ہیں۔
• • %82 صارفین نے سوشل کامرس(Social Commerce) کے ذریعے خریداری کی ، جبکہ فراڈ کا سامنا کرنے والوں میں سے %44 کے ساتھ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر پیش آیا۔
• • %77 کو تشویش ہے کہ بچے فراڈ کو پہچاننے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، جبکہ %33 نے بچوں کو آن لائن گیمنگ یا شاپنگ کے دوران فراڈ سے متاثر ہوتے دیکھا.
*کراچی، پاکستان، 09 جون، 2026* — ڈیجیٹل ادائیگیوں میں عالمی رہنما ویزا(Visa) نےآج پاکستان میں اپنی سالانہ Stay Secure اسٹڈی جاری کی، جو ڈیجیٹل کامرس اور فراڈ سے متعلق صارفین کے رجحانات اور رویوں کا جائزہ لیتی ہے۔ Wakefield Research کی جانب سے کی گئی اس سال کی اسٹڈی یہ ظاہر کرتی ہے کہ AI پر مبنی خریداری اور سوشل کامرس صارفین کے رویوں کو کس طرح تبدیل کر رہے ہیں، جبکہ اعتماد اور تحفظ سے متعلق توقعات بدستور مضبوطی سے برقرار ہیں۔-
*صارفین AI کی مدد سے خریداری کو اپنا رہے ہیں*
پاکستان میں صارفین تیزی سے اپنی خریداری کے سفر میں AI کو شامل کر رہے ہیں۔ %82 صارفینے خریداری میں مدد کے لیے AI ٹولز استعمال کر چکے ہیں، جن میں قیمتوں کا موازنہ کرنا (%56)، تحائف کے آئیڈیاز تلاش کرنا (%47)، اور ریویوز یا پراڈکٹ ریٹنگز چیک کرنا (%53) شامل ہیں۔
اس کی افادیت واضح ہے: %93 صارفین سمجھتے ہیں کہ AI سمیت نئی ٹیکنالوجیز آن لائن خریداری کو پہلے سے زیادہ تیز اور آسان بنا رہی ہیں۔ AI خریداری کے دوران نئے برانڈز اور ریٹیلرز کی دریافت پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے، جہاں %55 صارفین عموماً آن لائن خریداری کے دوران نئے برانڈز یا ریٹیلرز دریافت کرتے ہیں۔
تاہم، جب AI کے ذریعے خریداری مکمل کرنے یعنی چیک آؤٹ ((Checkout کی اجازت دینے کی بات آتی ہے تو صارفین زیادہ محتاط نظر آتے ہیں۔ فی الحال، صرف %42 صارفین چیک آؤٹ مکمل کرنے کے لیے AI ایجنٹس(Agents) پر اعتماد کرتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہایجنٹک کامرس(Agentic Commerce) کے دور میں صارفین کا اعتماد حاصل کرنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
جیسے جیسے AI کا استعمال بڑھ رہا ہے، صارفین اسے فراڈ کے خلاف ایک حل کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں. %65 صارفین کا خیال ہے کہ AI نے فراڈ کو پہچاننا آسان بنا دیا ہے، جبکہ %87 سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں AI صارفین کو فراڈ سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
*سوشل کامرس میں اضافہ، مگر فراڈ کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں*
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خریداری اب عام ہو چکی ہے۔ پاکستان میں %82 صارفینے براہِ راست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مصنوعات خرید چکے ہیں۔ جیسے جیسےانٹرنیٹ کے ذریعے خریدوفروخت کے ذرائع بڑھ رہے ہیں، فراڈ اور فریب کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ بارہ مہینوں میں %55 صارفین کسی نہ کسی مالی فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے %44 صارفین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات سوشل میڈیا پر پیش آئےجو دیگر پلیٹ فارمز جیسے ویب سائٹس، آن لائن مارکیٹ پلیسز یا شاپنگ ایپس کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
*بچوں کو آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات*
رپورٹ میں اس حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ بچے آن لائن فراڈ کا کس طرح سامنا کرتے ہیں۔ %77 صارفین کا کہنا ہے کہ بچوں ے کو فراڈ کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ %33 نے ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں بچے آن لائن گیمنگ یا شاپنگ کے دورانفراڈ سے متاثر ہوئے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب %44 والدین کے مطابق ان کے بچوں کو موبائل پیمنٹ ایپس(Mobile Payment Apps) یا ڈیجیٹل والٹس(digital wallets) تک رسائی حاصل ہے۔
*صارفین فراڈ سے تحفظ کے لیے اداروں سے رہنمائی کی توقع رکھتے ہی*
آن لائن خریداری کے دوران فراڈ سے تحفظ کی بات ہو تو صارفین سب سے پہلے خود کے بجائے اداروں کی طرف دیکھتے ہیں۔ %49 صارفین سمجھتے ہیں کہ اس کی بنیادی ذمہ داری پیمنٹ فراہم کرنے والے اداروں اور آن لائن مارکیٹ پلیسز پر ہونی چاہیے، اس کے بعد حکومتی ادارے یا ریگولیٹرز (%36) اور بینک یا مالیاتی ادارے (%31) آتے ہیں۔ صرف %13 صارفین کی رائے ہے کہ اس کی بنیادی ذمہ داری خود صارفین پر ہونی چاہیے۔
صارفین مزید فعال یقین دہانی بھی چاہتے ہیں۔ %51 صارفین کے مطابق اگر بینک یا پیمنٹ ایپ مشکوک سرگرمی پر ریئل ٹائم الرٹس (Real-time alerts) فراہم کرے تو ان کا اعتماد بڑھے گا، جبکہ %33 چیک آؤٹ کے وقت معروف اور قابل اعتماد لوگو دیکھ کر زیادہ مطمئن ہوتے ہیں۔
لیلا سرحان، سینئر وائس پریزیڈنٹ اور گروپ کنٹری مینیجر، شمالی افریقہ، لیونٹ اور پاکستان، ویزا، نے کہا :”پاکستان میں صارفین کی ڈیجیٹل کامرس کو اپنانے کی رفتار میں ہم مثبت پیش رفت دیکھ رہے ہیں۔ AI اور سوشل پلیٹ فارمز اب لوگوں کی خریداری اور نئی چیزوں کی دریافت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی، اسٹڈی کے نتائج ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتے ہیں، اور وہ ہے اعتماد۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل نظام ترقی کر رہا ہے، صارفین ایسے تجربات چاہتے ہیں جو نہ صرف سہولت فراہم کریں بلکہ خریداری کے ہر مرحلے پر اعتماد اور کنٹرول بھی یقینی بنائیں۔”
“جیسے جیسے کامرس میں AI کا استعمال بڑھ رہا ہے، ہمارے خطے کے لیے ایک اہم موقع یہ ہے کہ اعتماد کو مضبوط بنا کر زیادہ لوگوں کو ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنایا جائے۔ ویزا میں، ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر محفوظ ڈیجیٹل ایکو سسٹمز (digital ecosystems) کو مستحکم بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ریئل ٹائم تحفظ اور محفوظ ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ پورے خطے میں کامرس کا مستقبل ہموار، مضبوط اور سب کے لیے قابلِ اعتماد ہو۔”
انہوں نے مزید کہا: “خریداری کے تناظر میں AI سے چلنے والے ایجنٹک تجربات کے فروغ کے باوجود، یہ اسٹڈی ظاہر کرتی ہے کہ جب خریداری مکمل کرنے کی بات آتی ہے تو صارفین اب بھی محتاط رہتے ہیں۔ ویزا انٹیلیجنٹ کامرس (Visa Intelligent Commerce)کے ذریعے، ہم اعتماد، کنٹرول اور یقین دہانی پر مبنی کامرس کے نئے دور کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔”
ڈیجیٹل کامرس کے نئے دور کے لیے اعتماد کی تعمیر کے بارے میں مزید جاننے کے لیے مکمل Visa Stay Secure 2026 رپورٹ یہاں پڑھیں: https://pk.visamiddleeast.com/content/dam/VCOM/regional/cemea/pakistan/pay-with-visa/security-and-assistance/stay-secure/stay-secure-survey-pakistan-urdu.pdf
Stay Secure اسٹڈی کے بارے میں:
Stay Secure اسٹڈی ویزا کی جانب سے کمیشن کی گئی تھی، جسے Wakefield Research نے جنوری سے فروری 2026 کے دوران انجام دیا۔ اس سروے میں CEMEA کی 17 مارکیٹس میں 18 سال اور اس سے زائد عمر کے 5,800 افراد کو شامل کیا گیا، جن میں بحرین، کوٹ ڈی آئیوری، مصر، اردن، قازقستان، کینیا، کویت، مراکش، نائجیریا، عمان، پاکستان، قطر، سعودی عرب (KSA)، سربیا، جنوبی افریقہ، یوکرین اور متحدہ عرب امارات (UAE) شامل ہیں۔
اعلانِ لاتعلقی:
• اسٹڈی کے نتائج تحقیق کے وقت صارفین کے تاثرات کی عکاسی کرتے ہیں اور مستقبل کے رویوں یا نتائج کی پیش گوئی نہیں کرتے۔
• یہ نتائج سروے کیے گئے خطوں میں ملک، آبادیاتی گروپ اور مارکیٹ حالات کے اعتبار سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
• اسٹڈی کے نتائج صارفین کے مشاہدات اور تاثرات کی عکاسی کرتے ہیں، اور انہیں بچوں کی حفاظت یا آن لائن رویے سے متعلق پیشہ ورانہ رہنمائی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
• AI سے متعلق حوالہ جات صرف معاون ٹیکنالوجیز اور معلومات کی عکاسی کرتے ہیں۔ AI based ٹولز انسانی فیصلے کا متبادل نہیں ہیں اور انہیں قانونی، مالی، کمپلائنس یا پیشہ ورانہ مشورہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
