محسن گیلانی کے پہلے سال میں فٹبال کی بحالی

newsdesk
3 Min Read
سید محسن گیلانی کے ابتدائی سال میں پاکستانی فٹبال نے بین الاقوامی رابطے بحال کیے، خواتین اور فُٹسال میں نمایاں کامیابیاں سامنے آئیں

پچھلے تقریباً ایک عشرے میں فٹبال انتظامی الجھنوں، قانونی جھگڑوں اور بین الاقوامی معطلیوں کی وجہ سے پس ماندہ رہا تھا، مگر حالیہ بار آئندہ پالیسیوں اور رابطوں نے منظرنامہ بدل دیا ہے۔ دوہزار پندرہ سے دوہزار پچیس تک عرصے میں ملک گیر مقابلے متاثر ہوئے اور کھلاڑیوں، عہدیداروں اور شائقین میں مایوسی پھیل گئی۔مئی دوہزار پچیس میں سید محسن گیلانی کے منتخب ہونے کے بعد فوری طور پر بین الاقوامی فٹبال تنظیم، ایشیا کی فٹبال کنفیڈریشن اور جنوبی ایشیائی فٹبال تنظیم سمیت متعدد غیر ملکی اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے گئے، جس سے پاکستانی ٹیموں کی بین الاقوامی شرکت کی راہ ہموار ہوئی۔قومی ٹیموں نے گذشتہ بارہ ماہ میں مختلف علاقائی اور براعظمی کوالیفائنگ مقابلوں، نوجوانوں کے ٹورنامنٹس اور خواتین کے بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہو کر عرصہ دراز کے بعد باقاعدہ میدان بازی شروع کی۔ اس عمل نے نوجوان کھلاڑیوں کو ضروری تجربہ دینے کے ساتھ ملک کی فٹبال بحالی کی سمت واضح کی۔ادارہ جاتی سطح پر بعض اہم سنگِ میل حاصل کیے گئے جن میں مردوں اور خواتین کی پہلی قومی فُٹسال ٹیموں کا قیام اور ڈیجیٹل فٹبال مقابلوں میں شرکت کے لیے ایک مخصوص محکمہ قائم کرنا شامل ہے، جو ملک کو نئے مقابلوں اور استعداد کار کے شعبوں میں متحرک کرے گا۔خواتین فٹبال نے اس سال خاص کامیابی دکھائی اور پہلی بین الاقوامی شرکت میں قومی ٹیم نے تاریخی آٹھ صفر کی فتح رکھی جبکہ اعلیٰ درجہ کے حریفوں کے خلاف قابلِ ذکر کھیل پیش کیا گیا۔ نوجوان سطح پر بھی بین الاقوامی میچز کے دوبارہ شیڈول ہونے سے نئی نسل کو مواقع ملے ہیں۔فیڈریشن نے کوچز کی تربیت، ریفریڈومینٹ کی بہتری، نوجوانوں کے تبادلوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پیشہ ورانہ لیگ کے منصوبہ بندی کے شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داری بڑھانے کے لیے متعدد معاہدے طے کیے، اور بین الاقوامی فورمز میں ملک کی نمائندگی بڑھانے میں کامیابی ملی۔قومی سطح پر ترقیاتی اقدامات میں بین الاقوامی فٹبال تنظیم کے تعاون سے میدانوں کی بہتری کے منصوبے، پہلے قومی تربیتی مرکز کی منصوبہ بندی اور ملک میں اولین پیشہ ورانہ لیگ کے لیے ابتدائی تیاری شامل ہیں۔ اگرچہ اصلاحات اور ادارہ جاتی مضبوطی کے چیلنج باقی ہیں، مگر موجودہ حکمتِ عملی نے رفتار بحال کر دی ہے۔ممکنہ طور پر بین الاقوامی فٹبال تنظیم کے صدر جیانی انفانتینو کے ممکنہ دورے پر بھی بات چیت جاری ہے جو حتمی ہوا تو طویل مدتی ترقی کے لئے امید افزا ثابت ہوگا۔ مجموعی طور پر پاکستان میں پاکستانی فٹبال کو دوبارہ تجدیدِ حیات اور واضح سمت نظر آ رہی ہے، جس سے مستقبل کے لیے مثبت توقعات وابستہ ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے