اسکول سے باہر بچے: پالیسی ناکامیوں سے انسانی المیوں تک
تحریر: ماہ جبین اسلم
اسکول سے باہر بچے محض سرکاری رپورٹوں میں درج اعداد و شمار نہیں ہوتے بلکہ وہ تھکے ہوئے ہاتھوں، ادھورے خوابوں اور اپنی عمر سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھانے والے معصوم انسان ہوتے ہیں۔ جب بھی خواندگی مہمات چلائی جاتیں، ہم اساتذہ ورکشاپوں، ہوٹلوں، دکانوں اور گلیوں میں ان بچوں کو تلاش کرتے جو مزدوری کے بجائے کلاس رومز کے حقدار تھے۔ مسلم نگری اور عیسیٰ نگری جیسے علاقوں میں گھر گھر جا کر والدین کو سمجھاتے کہ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ تقدیر بدلنے کا راستہ ہے۔
میرے اسکول میں تقریباً تیس ایسے بچے شام کی شفٹ اسکول کے ذریعے تعلیم سے جڑے جو صبح مزدوری کرتے تھے۔ ان کے پاس بہت کم تھا، مگر انہیں سیکھنے کا ایک حق مل گیا تھا۔ ایک وقت تھا جب یہی بچے اسکول کے دروازے کے باہر کھڑے اندر جھانکا کرتے تھے، ان کی آنکھوں میں خاموش امید ہوتی تھی۔ پھر وہ دن آیا جب وہ بستے اور کتابیں اٹھائے مسکراتے ہوئے اسکول میں داخل ہوئے۔ وہ کھیلتے، پڑھتے، ہنستے اور سیکھتے تھے، جیسے محرومی کے بعد بچپن نے پہلی بار سانس لی ہو۔
صبح کی شفٹ ختم ہونے پر کچھ بچے گھروں کو لوٹتے اور کچھ خاموشی سے شام کی کلاسوں کیلئے اندر داخل ہوتے۔ داخلہ بڑھانے کیلئے حکومت نے اسکول میل پروگرام شروع کیا جس کے تحت بچوں کو دوپہر کا کھانا دیا جاتا تھا، مگر یہ سہولت صرف صبح کی شفٹ کے طلبہ کیلئے تھی۔ شام کی شفٹ کے بچے اکثر کہتے، “صبح والے سار ا کھانا کھا جاتے ہیں، ہمارے لیے کچھ نہیں بچتا۔” یہ جملہ آج بھی دل میں چبھتا ہے۔
آج وہ جگہ بھی ختم ہو چکی ہے جہاں یہ بچے تعلیم سے جڑ سکے تھے۔ ختم صرف ایک کلاس روم نہیں ہوا بلکہ ان بچوں کی امید کا پل ٹوٹ گیا۔ پانچ سالہ منصوبہ تین سال بھی مکمل نہ کر سکا۔ فنڈز ختم ہوگئے، اساتذہ چلے گئے اور ان بچوں کی تعلیم ایک بار پھر چھن گئی۔ یہ بچے بہتر مستقبل کی امید لے کر آئے تھے مگر دوبارہ اسی اندھیرے میں دھکیل دیے گئے جہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اکثر منصوبے افتتاحی تقریبات، تصاویر، تقاریر اور میڈیا مہمات کے ساتھ شروع ہوتے ہیں مگر تالیاں بجنا بند ہوتے ہی بچے بھی گفتگو سے غائب ہو جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں گنتا کہ کتنے بچے دوبارہ ورکشاپوں، فیکٹریوں، کھیتوں اور سڑکوں پر واپس چلے گئے۔ اگر تعلیم واقعی ایمرجنسی ہے تو پھر اس کے مطابق ردعمل کہاں ہے؟ مطلوبہ بجٹ کہاں ہے؟ غربت کے شکنجے میں جکڑے خاندانوں کیلئے سہارا کہاں ہے؟
اسکول میل پروگرام سے داخلے ضرور بڑھے، کچھ بچوں کیلئے ایک پلیٹ کھانا ہی اسکول آنے کی وجہ بن گیا، مگر حقیقت یہ تھی کہ کئی بچے اسکول پہنچ ہی نہیں پاتے کیونکہ وہ اپنے خاندان کے تین یا چار افراد کا پیٹ پالنے کے ذمہ دار تھے۔ وہ ہوم ورک نہیں بلکہ مزدوری سے کمائی گئی روٹی لے کر گھر لوٹتے تھے۔ ہر روز بھوک اور تعلیم آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور اکثر بھوک جیت جاتی ہے۔
لوگوں کو صرف داخلوں کے اعداد و شمار نہیں بلکہ تسلسل، عزت، تکمیل اور جینے کی صلاحیت چاہیے۔ غربت بچوں کو پرائمری کے بعد دوبارہ مزدوری کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ کوئی ملک صرف عارضی منصوبوں سے اسکول سے باہر بچوں کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ اس کیلئے مستقل سیاسی عزم، مسلسل مالی سرمایہ کاری، کمزور خاندانوں کیلئے سماجی تحفظ، ووکیشنل راستے، سیکنڈ شفٹ اسکول اور بچوں کے حقِ تعلیم کیلئے حقیقی احترام درکار ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کتنی مہمات چلائی گئیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنے بچے تعلیم میں برقرار رہے؟ کتنے اپنی تعلیم مکمل کر سکے؟ اور کتنے آج بھی اسکول کے دروازوں کے باہر امید سے اندر جھانک رہے ہیں؟
یہ بچے ذہانت یا صلاحیت کی کمی کے باعث تعلیم سے دور نہیں ہوتے بلکہ انہیں بقا کی جنگ اسکول سے دور کر دیتی ہے۔ کچھ بچے ورکشاپوں میں انجن ٹھیک کرتے ہیں، کچھ ہوٹلوں میں برتن دھوتے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں بچے فصلیں کاٹتے اور بھاری بوجھ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام اکثر یہ سمجھتا ہے کہ ہر بچہ ایک جیسی زندگی اور مواقع رکھتا ہے۔
زرعی علاقوں میں بھی امتحانات فصل کٹائی کے موسم میں لیے جاتے ہیں، جب بچوں کی اپنے خاندان کے ساتھ کھیتوں میں موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ بچے فیل ہو جاتے ہیں، نااہلی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ زندگی انہیں روٹی اور کتاب کے درمیان انتخاب پر مجبور کر دیتی ہے۔ بار بار ناکامی کے بعد وہ خاموشی سے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ نہ کوئی پوچھتا ہے، نہ کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کے نظام میں لچک، ہمدردی اور زمینی حقائق کی سمجھ شامل کی جائے۔ ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں بچے موسمی ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیم جاری رکھ سکیں۔ کھیتوں میں والدین کا ہاتھ بٹانے والا بچہ تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ ناکام وہ نظام ہے جو اس کی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہا۔
ایک اہم اصلاح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میٹرک اور ایس ایس سی کے طلبہ کو سماجی خدمت کے طور پر اسکول سے باہر بچوں کو پڑھانے کی ترغیب دی جائے۔ اگر ہر طالب علم ایک بچے کو بھی ایک سبق پڑھا دے تو معاشرہ اندر سے بدل سکتا ہے۔ تعلیم صرف امتحانات اور اسناد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمدردی، ذمہ داری اور انسانیت کی خدمت بھی سکھانی چاہیے۔
اسکول جانے والے بچے اور اسکول سے باہر بچے کے درمیان کبھی کبھی صرف ایک دروازے کا فاصلہ ہوتا ہے، مگر جذباتی طور پر یہ دو مختلف دنیاؤں کا فرق محسوس ہوتا ہے۔ ایک بچہ کلاس روم میں بیٹھا خواب دیکھتا ہے جبکہ دوسرا دروازے کے باہر کھڑا خاموشی سے اندر جھانکتا رہتا ہے۔
پاکستان کو صرف عالمی ایجنڈوں اور بیرونی ترقیاتی ماڈلز کی نقل نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنی زمینی حقیقتوں کے مطابق “پاکستان ڈیولپمنٹ گولز” تشکیل دینے چاہئیں۔ ایسے اہداف جو غربت، موسمی مزدوری، بھیڑ بھرے اسکولوں، کم وسائل اور محروم بچوں کے خوابوں کو سمجھ سکیں۔ قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب وہ دوسروں کے خیالات دہرانے کے بجائے اپنے مسائل کے حل خود تخلیق کرتی ہیں۔
پاکستان میں صلاحیت، حوصلہ اور ہمدردی کی کمی نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ترقی کے مرکز میں انسان، عزت، مساوات اور شمولیت کو رکھا جائے۔ تب ہی ترقی کانفرنس ہالوں اور پالیسی دستاویزات سے نکل کر عام انسانوں کی زندگیوں میں نظر آئے گی۔
