اسلام آباد میں قائم پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے اتحاد نے قومی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران حکومت سے جامع آئینی اصلاحات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک حقیقی طور پر ہمہ گیر جمہوریت کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک غیر مسلموں کو اعلیٰ عہدوں کے لئے آئینی رکاوٹوں کا سامنا رہے گا اور اقلیتی برادریوں کی براہِ راست نمائیندگی ممکن نہ ہو۔اکمل بھٹی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ محض علامتی اشارے اب کافی نہیں؛ ضرورت ساختی تبدیلیوں کی ہے جو قانون کے سامنے برابری اور مواقع کی ضمانت دیں۔ انہوں نے کہا کہ وقتی اقدامات کے بجائے آئینی اصلاحات درکار ہیں جو اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔تحریری تجاویز میں بچوں کی جبری مذہبی تبدیلی کو روکنے کے لیے اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے بارے میں واضح شرط رکھی گئی ہے کہ کسی بھی مذہبی تبدیلی کے لیے آزاد، باخبر اور عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے تحریری رضامندی لازمی ہو۔ اس کے علاوہ جبری شادی کے خاتمے اور عمر کی توثیق کے سخت میکانزم اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے جس میں شناختی کارڈ، نادرا کے جاری شدہ پیدائش کے سرٹیفیکیٹ اور متنازع صورتوں میں سرکاری میڈیکل بورڈ کے ذریعے طبی معائنے شامل ہیں، اور عمر کے تعین میں کسی بھی شک کی صورت میں بچے کے مفاد میں فیصلہ کیا جائے گا۔مرکزی مطالبات میں آرٹیکل ۴۱ کی ذیلی شق ۲ اور آرٹیکل ۹۱ کی ذیلی شق ۳ میں مذہبی شرطیں ختم کر کے صدر اور وزیراعظم کے عہدوں سے مذہبی موزونیت ہٹانے کی سفارش شامل ہے۔ اسی طرح قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے لیے آرٹیکل ۵۱ اور آرٹیکل ۱۰۶ کی ترامیم کے ذریعے براہِ راست انتخابات متعارف کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ اقلیتی برادریوں کو براہِ راست ووٹنگ کے ذریعے نمائندگی مل سکے۔اس کے علاوہ آئینی ضمن میں آرٹیکل ۲۷ میں اصلاحات تجویز کی گئیں تاکہ وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمتوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں اقلیتوں کے لیے کم از کم پانچ فی صد کوٹہ آئینی طور پر یقینی بنایا جائے۔ اتحاد نے کہا کہ یہ اقدامات ریاستی بجٹ پر قابلِ ذکر اضافی بوجھ کا باعث نہیں بنیں گے اور موجودہ اداروں اور قانونی ڈھانچے کے ذریعے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔پریس کانفرنس میں رواداری تحریک کے چیئرمین سیمسن سلامت، پاکستان اقلیتوں کے اتحاد کے چیئرمین طاہر نوید چودھری اور تحریک حقوق اقلیت کے صدر رابن ڈینیئل نے بھی شرکت کی اور اصلاحاتی پیکج کی حمایت کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی سطح پر اقلیتی حقوق کے کارکن جوزف یانسن نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے عہدناموں کے مطابق ملک کو موثر طریقے سے ہم آہنگ کریں گے اور تجارتی مراعات حاصل کرنے والے بین الاقوامی فریم ورکس کے تقاضوں کے مطابق مثبت پیغام بھیجیں گے۔اتحاد نے پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات سے اپیل کی ہے کہ وہ اصلاحاتی مسودے کو حتمی شکل دینے سے قبل اقلیتی برادریوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے ساتھ وسیع عوامی مشاورت کرے، کیونکہ متاثرہ طبقات کی آواز کے بغیر کسی آئینی تبدیلی سے دوری اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا۔آئینی اصلاحات کے اس پیکج سے متعلق بحث متوقع ہے جب حکومت اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور کرے گی، اور اس موقعے پر سیاسی اور عوامی سطح پر وسیع مباحثہ سامنے آنے کی توقع ہے۔
