چین کے ساتھ باہمی انحصار کا قیام پاکستان کی کثیر الجہتی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے: ماہرین

newsdesk
7 Min Read
ماہرین نے کہا کہ پاک چین تعلقات کو باہمی انحصار میں بدل کر گورننس، انسانی سرمایہ اور ادارہ جاتی مضبوطی سے ملک کی ترقی ممکن ہے

چین کے ساتھ باہمی انحصار کا قیام پاکستان کی کثیر الجہتی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے: ماہرین

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، عدم مداخلت اور مشترکہ جغرافیائی و سیاسی مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط تزویراتی شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ اقتصادی اور ٹیکنالوجی تعاون پاکستان کی مستقبل کی سماجی و اقتصادی تبدیلی کے اہم محرکات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ اس شراکت داری کے ثمرات سے مکمل طور پر استفادہ کرنے کے لیے پاکستان کو ایک پالیسی تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے تحت انحصار سے باہمی انحصار کی طرف پیش رفت کی جائے اور حکمرانی، انسانی وسائل اور ادارہ جاتی پیشہ ورانہ مہارت کو مضبوط بنایا جائے۔

یہ بات اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز) آئی پی ایس(کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار ”پاکستان-چین تعلقات کی ۷۵ویں سالگرہ: علاقائی استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے کثیر الجہتی شراکت داری کو آگے بڑھانا “میں زیر بحث آئی۔ اجلاس کے مقررین، جو پاکستان-چین تعلقات کے پلاٹینم جوبلی کے موقع پر منعقد ہوا، میں شامل تھے: سابق سفیر سید ابرار حسین،نائب چیئرمین آئی پی ایس ، سابق وزیر خارجہ اور اجلاس کے صدر سابق سفیر سلمان بشیر، سابق سفیر مسعود خالد، سابق سفیر نغمانہ ہاشمی، سابق سفیر معین الحق، اور دفاع و تزویراتی امور کے ماہر ڈاکٹر سید محمد علی۔

اپنے ابتدائی کلمات میں سفیرابرار حسین نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات مئی ۱۹۵۱ میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے نمایاں طور پر ترقی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک-چین شراکت داری اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں سی پیک کے دونوں مراحل کے تحت تعاون جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔

سفیر مسعود خالد نے کہا کہ پاکستان پہلا مسلم ملک تھا جس نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ دوطرفہ تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور عدم مداخلت پر مبنی ہیں، اور یہ دوستی کئی علاقائی و عالمی چیلنجز کے باوجود بغیر کسی شرط کے قائم رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک علاقائی بالادستی کی مخالفت کرتے ہیں اور امن کے حامی ہیں۔انہوں نے پاکستان-چین تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے خلاف اسٹریٹجک صف بندی کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا۔ بدلتے ہوئے عالمی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین ایک مستحکم قوت کے طور پر ابھرا ہے جو تعاون، ترقی اور امن کی حمایت کرتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے سی پیک کو پاکستان کے جیو اکنامک مستقبل کا مرکزی ستون قرار دیا اور کہا کہ یہ منصوبہ آئندہ دہائی میں پاکستان کو ایک نمایاں معیشت بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سفیر نغمانہ ہاشمی نے موجودہ تزویراتی تعاون کو ایک طویل المدتی اور مستقبل بین تعلق میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ سی پیک کو صنعتی ترقی اور خصوصی اقتصادی زونز کی طرف موڑا جائے، مصنوعی ذہانت اور گرین ٹیکنالوجیز میں چین کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے، نایاب معدنیات سے استفادہ کیا جائے، ایم ایل-۱ کو فعال کیا جائے اور گوادر بندرگاہ کی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھایا جائے، خصوصاً موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں۔

انہوں نے پاکستان کے لیے اہم ترجیحات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارے کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جائے، منصوبوں کے نفاذ کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے، چین کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیے بغیر دیگر ممالک سے روابط کو متنوع بنایا جائے، مقامی مہارت کو فروغ دیا جائے اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط کیا جائے۔

سفیر معین الحق نے پاکستان اور چین کی دوستی کو دونوں ممالک کی ” تاریخی حقیقت اور شعوری انتخاب“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا معاشی اور سلامتی کا مستقبل چین سے گہرا جڑا ہوا ہے اور پاکستان کو بیجنگ کے ساتھ تجارتی و اقتصادی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے چین کے ترقیاتی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ریاستی قیادت میں اصلاحات، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کشادگی، صوبائی خودمختاری، تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی معاشرتی اقدار جیسے محنت، میرٹ اور نظم و ضبط نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد علی نے پاکستان کی قومی طاقت اور جنوبی ایشیا کے تزویراتی استحکام میں چین کے کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ غیر مشروط حمایت فراہم کی ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دفاعی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مقامی دفاعی صلاحیتوں کی تشکیل میں چینی ٹیکنالوجی نے کلیدی کردار ادا کیا۔

مئی ۲۰۲۵کے پاک-بھارت فوجی تعطل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید چینی دفاعی ٹیکنالوجی نے عملی میدان میں نمایاں افادیت ظاہر کی۔ انہوں نے چینی تعاون سے چلنے والے سول نیوکلیئر توانائی منصوبوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جو پاکستان کے توانائی بحران کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سفیر سلمان بشیر نے کہا کہ پاکستان-چین تعلقات بین الاقوامی تعلقات کے روایتی ڈھانچوں سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی لین دین پر مبنی ماڈلز کے برعکس چین پاکستان کے ساتھ تعلقات میں طویل المدتی تہذیبی نقطہ نظر رکھتا ہے، جو مشترکہ تاریخ اور باہمی فہم پر مبنی ہے۔

 

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے