بارانی یونیورسٹی میں جاری تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اہم پالیسی سفارشات کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر

newsdesk
4 Min Read
پیر مہر علی شاہ یونیورسٹی میں منعقدہ زندگی سائنس کانفرنس تین روزہ مباحث، صنعتی نمائش اور پالیسی سفارشات کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی

بارانی یونیورسٹی میں جاری تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اہم پالیسی سفارشات کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں فیکلٹی آف سائنسز کے زیرِ اہتمام ہمالیہ ہیمپ اینڈ ہیلتھ (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایوولوشن ایجوٹیک پاکستان کے تعاون سے منعقدہ ہونے والی تین روزہ لائف سائنسز کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے دوران سائنسی مباحث، تکنیکی سیشنز، صنعتی نمائشوں اور بین الاقوامی علمی روابط کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، غذائی تحفظ، صحتِ عامہ، بایوٹیکنالوجی، پائیدار زراعت، آبی وسائل کے مؤثر انتظام اور ماحولیاتی استحکام جیسے اہم عالمی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کانفرنس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے ممتاز سائنسدانوں، وائس چانسلرز، پالیسی سازوں، صنعتکاروں، محققین، ماہرین تعلیم، ترقیاتی اداروں، کاروباری شخصیات اور طلبہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے سائنسی تحقیق، اختراعات اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نمائندے مسٹر کیون سیسنک نے کانفرنس کو عالمی سائنسی تعاون اور بین الاقوامی علمی اشتراک کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں نوجوان محققین اور طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر سائنسی روابط، تحقیقی رہنمائی اور علمی آگاہی کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آرگنائزر اور ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر رحمت اللہ قریشی نے کہا کہ کانفرنس میں 130 سے زائد تحقیقی مقالات موصول ہوئے، جنہیں آئی ایس بی این نمبر کے ساتھ ہمالین جرنل آف بوٹینیکل سائنسز میں شائع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لائف سائنسز کانفرنس تحقیقی روابط اور شواہد پر مبنی مکالمے کے ذریعے عالمی ماحولیاتی اور سماجی مسائل کے پائیدار حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین پاکستان سائنس فائونڈیشن روفیسر ڈاکٹر محمد اکمل نے کانفرنس کے سائنسی معیار اور بین الاقوامی اہمیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی سفارشات کو قابلِ عمل قومی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کانفرنس سے سامنے آنے والی سائنسی و تحقیقی پالیسی سفارشات کو پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کی آئندہ فنڈنگ ترجیحات اور تحقیقی معاونت کے منصوبوں میں مدنظر رکھا جائے گا۔

کانفرنس کی نمایاں سرگرمیوں میں نیشنل ایکسپو آن فوڈ اینڈ نیچرل پروڈکٹس خصوصی توجہ کا مرکز رہی، جس میں جڑی بوٹیوں پر مشتمل ادویات، فائٹو فارماسیوٹیکل مصنوعات، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی اختراعات، طبی پودوں پر مبنی مصنوعات، ماحول دوست ٹیکنالوجیز، قدرتی صحت سے متعلق فارمولیشنز، طلبہ کے تحقیقی منصوبے اور بایو بیسڈ کاروباری اقدامات پیش کیے گئے۔

کانفرنس کے اختتام پر ماہرین کی سائنسی اور تکنیکی مشاورت کی روشنی میں متعدد اہم پالیسی سفارشات بھی جاری کی گئیں، جن میں موسمیاتی استحکام، قدرتی وسائل کے تحفظ، سائنسی تحقیق کے فروغ، پائیدار زرعی نظام، نوجوان محققین کی استعداد کار میں اضافے اور بین الاقوامی تحقیقی تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے