پنجاب میں گندم کی دستیابی کے حوالے سے صوبائی حکومت نے خوشخبری سنائی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس سال پیداوار غیرمعمولی حد تک بلند رہی ہے جس سے بازار اور صارفین کیلئے گندم کی فراہمی میں استحکام متوقع ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں مجموعی پیداوار ۲۲ ملین ٹن سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے، جو عوامی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ الحمدللہ گندم وافر مقدار میں دستیاب ہے اور حکومت نے خوراک کی حفاظت کو جدید طرز حکمرانی کے تحت یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔ شفافیت بڑھانے اور طلب و رسد کی روزانہ مانیٹرنگ کے لیے براہِ راست ڈیجیٹل ڈیش بورڈ متعارف کرایا گیا ہے جو ہر اناج کے ذخائر کی نگرانی، قیمت کنٹرول اور فراہمی کے عمل کو واضح کرے گا۔حکومت نے لائسنس یافتہ ایگریگیٹرز اور اسٹاکِسٹز کو گندم رکھنے کی قانونی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ اپنے اسٹاکز باقاعدہ طور پر درج کرائیں۔ ان اسٹیک ہولڈرز کے لیے حوصلہ افزائی کے طور پر مراعات کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے تاکہ اسٹاکز کی ترسیل میں شفافیت بڑھے اور تجارتی ضوابط کی پابندی کو فروغ ملے۔ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دو ہفتوں کے اندر اسٹاکز کی غیر اعلامیہ حیثیت برقرار رکھنے والوں کے خلاف احتکار مخالف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔زرعی امور، گندم کی فراہمی، خوراک کی حفاظت اور صارفین کے تحفظ پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ آٹے کی قیمتیں مستحکم رکھی جائیں اور عوام کو سستا آٹا دستیاب ہو۔ اسی مناسبت سے فوڈ ڈپارٹمنٹ کے نظام میں مکمل اصلاحات کے احکامات جاری کیے گئے تاکہ جدید طرزِ حکومت کے مطابق روزانہ مانیٹرنگ اور فوری ردِ عمل ممکن ہو سکے۔گندم کی دستیابی کے اس اعلان کے بعد حکومت نے تصدیق کی کہ ہر دانے کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور صوبے بھر میں روٹی اور آٹے کی منصفانہ قیمت برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ شفاف اسٹاک ریکارڈنگ، قانونی فریم ورک اور آن لائن مانیٹرنگ کے ذریعے گندم کے ذخائر کی حفاظت اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
