پاکستان فلسطینی عوام کی قوت ہے

newsdesk
6 Min Read
اسلام آباد لیکچر میں پروفیسر سمی العریان نے کہا پاکستان فلسطینی عوام کی قوت ہے اور کشمیر پاکستانی شہ رگ ہے، ایران کی حمایت پر تنقید بھی کی گئی

پاکستان فلسطین کی طاقت، ایران کو فلسطین کی حمایت پر نشانہ بنایا گیا: پروفیسر سامی، کشمیر اور فلسطین پاکستانی ڈی این اے کا حصہ ہیں، مشاہد حسین

اسلام آباد: ممتاز فلسطینی اسکالر اور استنبول میں قائم سینٹر فار اسلامک اینڈ گلوبل افیئرز (CIGA) کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سامی العریان نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کے لیے طاقت کا سرچشمہ ہے کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی مسلم ریاست ہے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی، جبکہ اسرائیل بھی پاکستان کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں جو اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم پر فلسطین کی آواز بلند کرتا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں انٹرنیشنل پارلیمنٹیرینز کانگریس (IPC) اور پاکستان افریقہ انسٹیٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ (PAIDAR) کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی لیکچر ’’ابھرتا ہوا مشرق وسطیٰ اور صہیونی۔ہندوتوا گٹھ جوڑ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

لیکچر کی میزبانی سینیٹر ستارہ ایاز، سیکریٹری جنرل آئی پی یو، اور سینیٹر مشاہد حسین سید، صدر PAIDAR نے مشترکہ طور پر کی۔ معروف صحافی حامد میر نے بھی فلسطین کے مسئلے اور پاکستان کے کردار پر اظہار خیال کیا، خصوصاً قائداعظم محمد علی جناح اور فلسطین کے گرینڈ مفتی امین الحسینی کے قریبی تعلقات کا حوالہ دیا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کی تاریخی حقیقتوں اور پاکستان کی قومی پالیسی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کشمیر ہماری شہ رگ ہے‘‘ اور ’’اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے‘‘ جیسی پالیسیوں کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے پہلے ہی رکھ دی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے قائداعظم نے 13 دسمبر 1947 کو امریکی صدر ہیری ٹرومین کو پہلا خط اسرائیل کی غیر قانونی حیثیت کے بارے میں لکھا تھا۔

مشاہد حسین سید نے فلسطین۔اسرائیل تنازع میں پاکستان کے منفرد کردار کو ’’پین اسلامک یکجہتی‘‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد غیر عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کے خلاف دو جنگوں میں حصہ لیا اور اسرائیلی طیارے مار گرائے۔ انہوں نے بتایا کہ جون 1967 میں پاک فضائیہ کے پائلٹس نے اردن اور عراق کے طیارے اڑائے جبکہ اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستانی پائلٹس نے شام اور مصر کی جانب سے حصہ لیا۔

انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا اور مقبوضہ کشمیر سے حریت رہنماؤں غلام محمد صفی اور حمید لون کی شرکت کو سراہا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے مسلم حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں منافقت ترک کرکے ہندوتوا۔صہیونی گٹھ جوڑ کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے ایران کی ’’دلیرانہ مزاحمت‘‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کو فلسطین کی حمایت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر سامی العریان نے اپنے خطاب میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ فلسطینی نژاد امریکی پروفیسر نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا میں امن و استحکام چاہتے ہیں تو صہیونیت کے نظریے کو ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی اپنی مجبوریوں ہوتی ہیں لیکن سول سوسائٹی آزاد ہے اور اسے صہیونیت جیسے عالمی خطرے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

مقررین نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی دو سنجیدہ کوششیں ہوئیں، تاہم پاکستانی عوام، سماجی تنظیموں اور رائے عامہ کے سخت ردعمل نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

پروفیسر سامی العریان نے عراق اور ایران کے ایٹمی پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق کا ایٹمی پروگرام اسرائیل نے تباہ کیا جبکہ ایران کا پروگرام مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی قوتیں نہیں چاہتیں کہ کوئی مسلم ریاست دفاعی لحاظ سے مضبوط ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کا ایٹمی پروگرام ’’صہیونی سازشوں‘‘ کے باوجود محفوظ رہا اور آج پوری مسلم دنیا کے لیے حوصلے کی علامت ہے۔

حامد میر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ’’جرائم میں شراکت دار‘‘ ہیں اور صہیونیت و ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک کے اندر بھی بڑی تعداد میں لوگ ان کی جنگی اور انتہا پسند پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں۔

تقریب میں سفارتکاروں، بیوروکریٹس، ارکان پارلیمنٹ، ریٹائرڈ فوجی افسران، سول سوسائٹی اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی، جن میں ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ سفیر حمید اصغر خان، چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد سفیر خالد محمود، سفیر سرور نقوی، میجر جنرل (ر) ڈاکٹر رضا اور میجر جنرل (ر) احسان محمود سمیت دیگر شامل تھے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے