روس نے تاجکستان کے قومی ہیروز کی قبروں کی مٹی تاجک قیادت کے حوالے کر دی، ایک ہیرو کا تعلق خیبرپختونخوا پاکستان سے
روس نے تاجکستان کے قومی ہیروز کی قبروں سے حاصل کی گئی مٹی تاجکستان کے حوالے کر دی، جسے دوشنبے ایئرپورٹ پر تاجک صدر امام علی رحمان نے وصول کیا۔ ان شخصیات میں نصرت اللہ مخصوم، شیرین شو شوختیمور اور پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے نثار محمد یوسفزئی شامل ہیں، جنہوں نے سوویت دور میں جمہوریہ تاجکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
18 مئی 2026 کو ماسکو کے ڈونسکوئے قبرستان میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں تاجکستان کے ہیروز اور ممتاز انقلابی رہنما نثار محمد یوسفزئی کی قبروں کی مٹی پر مشتمل کیپسولز تاجک وفد کے حوالے کیے گئے۔ تاجکستان کے وفد کی قیادت وزیر خارجہ سراج الدین محرالدین نے کی۔
تاجک حکام کے مطابق یہ اقدام تاجک صدر امام علی رحمان کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا، جسے تاریخی انصاف کی بحالی اور قومی یادداشت کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ عمل ان تاریخی شخصیات کی روحانی طور پر وطن واپسی کی علامت بھی ہے، جنہوں نے اپنی زندگیاں قوم کی خدمت کے لیے وقف کیں۔
وزیر خارجہ سراج الدین محرالدین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نصرت اللہ مخصوم اور شیرین شو شوختیمور نے 1920 اور 1930 کی دہائی میں تاجک عوام کے حقِ خودارادیت اور ترقی کے لیے نمایاں سیاسی جدوجہد کی۔
یہ مٹی 19 مئی 2026 کو دوشنبے منتقل کی گئی، جہاں اسے قومی یادگار کمپلیکس کا حصہ بنایا گیا، تاکہ نئی نسل کو تاجکستان کی تاریخی جدوجہد اور قربانیوں سے جوڑا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق نثار محمد یوسفزئی، جو 1897 میں برطانوی ہندوستان کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے ضلع صوابی کے علاقے زیدہ میں ایک یوسفزئی پشتون خاندان میں پیدا ہوئے، تاجکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے والد کا نام اول خان تھا جبکہ دادا محمد علی تھے۔
نثار محمد یوسفزئی نہ صرف ایک انقلابی رہنما بلکہ ماہر تعلیم، سپاہی اور سوویت سیاستدان بھی تھے۔ وہ تیسری افغان جنگ میں حصہ لینے والے ایک اعزازی فوجی تھے اور بعد ازاں سوویت یونین کے زیرِ انتظام خطے ترکستان میں تاجک خودمختاری کی تحریک کے اہم رہنما بنے۔
انہوں نے تاجک ریاست کے قیام کے لیے بھرپور سیاسی اور صحافتی مہم چلائی، اخبارات شائع کیے اور تاجک شناخت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ 1924 میں تاجک خودمختار سوویت سوشلسٹ جمہوریہ قائم ہوئی، جو بعد میں تاجک سوویت سوشلسٹ ریپبلک بنی۔
1926 میں نثار محمد یوسفزئی کو تاجکستان کا پہلا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا۔ وہ ماسکو یونیورسٹی میں پشتو زبان کے استاد بھی رہے اور پشتو، فارسی، روسی اور ازبک سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
8 اکتوبر 1937 کو سوویت خفیہ ادارے این کے وی ڈی نے عظیم تطہیر (Great Purge) کے دوران انہیں جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا۔ دورانِ تفتیش ایک اہلکار سے جھگڑے کے بعد محافظوں نے کمرے میں گھس کر انہیں گولی مار دی، جس سے ان کی زندگی کا المناک خاتمہ ہوا۔
