پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا انتظامی بحران: اصلاحات کے لیے ایک قومی منشور

newsdesk
5 Min Read
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا گورننس بحران، پانچ بنیادی ستون پر مبنی اصلاحات، وفاقی ہم آہنگی اور اساتذہ کی آزادی کی ضروریات۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا انتظامی بحران: اصلاحات کے لیے ایک قومی منشور

تحریر: ڈاکٹر عامر خان

پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ دنیا بھر میں معیشت تیزی سے علم، جدت اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی اصل بنیاد اس کی جامعات ہوتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام اس وقت انتظامی انتشار، سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا شکار ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں اصلاحات اب صرف انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر قومی ضرورت بن چکی ہیں۔

ملکی جامعات کو بحران سے نکالنے اور مستقبل محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے جس کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی نظام میں وسیع اصلاحات نافذ کی جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے پانچ بنیادی نکات پر فوری عملدرآمد ناگزیر ہے۔

اول، وفاقی سطح پر مضبوط رابطہ کاری کی بحالی۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کا اختیار صوبوں کو منتقل ہونے سے اعلیٰ تعلیم کا نظام منتشر ہو گیا اور مختلف صوبائی ادارے الگ الگ انداز میں کام کرنے لگے۔ اگرچہ صوبائی شمولیت مقامی ضروریات کے لیے اہم ہے، مگر اس کی وجہ سے قومی یکجہتی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو دوبارہ ایک مضبوط اور مرکزی کردار دیا جائے تاکہ قومی سطح پر یکساں تعلیمی معیار برقرار رکھا جا سکے، صوبوں کے درمیان ڈگریوں کی منظوری کا مؤثر نظام قائم رہے اور پاکستانی جامعات عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھ سکیں۔

دوم، جامعات کے لیے یکساں قوانین کا نفاذ۔
اس وقت مختلف جامعات مختلف قوانین کے تحت چل رہی ہیں جس کی وجہ سے انتظامی پیچیدگیاں اور قانونی خلا پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں جامعات کے قوانین کو یکساں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ طبی، انجینئرنگ، زرعی اور عمومی جامعات کے لیے الگ مگر متحدہ ضابطہ کار تشکیل دیا جا سکے۔ اس اقدام سے انتظامی معاملات میں بہتری، قوانین پر عملدرآمد میں آسانی اور ملک بھر میں یکساں معیار حکمرانی یقینی بنایا جا سکے گا۔

سوم، میرٹ پر وائس چانسلرز کی تقرری۔
کسی بھی جامعہ کی سمت اور مستقبل کا انحصار اس کی قیادت پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں وائس چانسلرز کی تقرری اکثر سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور ذاتی مفادات کی نذر ہوتی رہی ہے۔

اس صورتحال کے خاتمے کے لیے وائس چانسلرز کی تقرری آزاد اور خودمختار قومی سرچ کمیٹیوں کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ ان کمیٹیوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد رکھا جائے تاکہ صرف اعلیٰ علمی صلاحیت، انتظامی تجربہ اور غیر متنازع کردار رکھنے والے افراد ہی جامعات کی قیادت سنبھال سکیں۔

چہارم، جامعات کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا۔
اعلیٰ تعلیمی ادارے تحقیق، مکالمے اور تعلیم کے مراکز ہونے چاہییں، مگر بدقسمتی سے کئی جامعات سیاسی گروہوں اور بیرونی دباؤ کا میدان بن چکی ہیں۔

جامعات کی انتظامیہ کو اکثر احتجاج، دباؤ اور مختلف سیاسی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ جامعات میں سیاسی مداخلت مکمل طور پر ختم کی جائے اور انتظامیہ کو نظم و ضبط برقرار رکھنے اور تعلیمی معیار پر توجہ دینے کے لیے بااختیار بنایا جائے۔

پنجم، اساتذہ اور علمی آزادی کا تحفظ۔
کسی بھی جامعہ کی اصل طاقت اس کے اساتذہ ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں اساتذہ کی بڑی تعداد عدم تحفظ کے ماحول میں کام کر رہی ہے۔ خوف اور دباؤ کے ماحول میں علمی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ کو قانونی اور ادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ تحقیق، علمی اظہار اور تدریسی فرائض بغیر کسی خوف، انتقامی کارروائی، پیشہ ورانہ رکاوٹ یا ہراسانی کے انجام دے سکیں۔

ڈاکٹر عامر خان کے مطابق پاکستان کا مستقبل اس کی جامعات کے معیار سے وابستہ ہے۔ اگر اعلیٰ تعلیمی ادارے سیاسی دباؤ، مالی مشکلات اور انتظامی کمزوریوں کا شکار رہے تو ملک تعمیری قیادت اور باصلاحیت نسل تیار کرنے میں ناکام رہے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جامعات کی زبوں حالی دراصل ملک کی سماجی اور معاشی بقا کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی مل بیٹھ کر سنجیدہ قومی مکالمہ شروع کریں اور اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ناگزیر اصلاحات نافذ کریں، کیونکہ مزید تاخیر پاکستان برداشت نہیں کر سکتا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے