پاکستان کا بجٹ 27-2026: معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کا روڈ میپ
پروفیسر ندیم اقبال

پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مہنگائی، بے روزگاری، صنعتی سرگرمیوں میں کمی اور عوامی اعتماد کی کمزوری قومی ترقی کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں وفاقی بجٹ 27-2026 محض مالی منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عوام دوست اور ترقی پر مبنی معاشی استحکام کے جامع روڈ میپ کی شکل اختیار کرنی چاہیے۔
آنے والے بجٹ کی اہم ترجیحات میں غربت کے خاتمے کے لیے ہنر مندی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہونا چاہیے۔ حکومت کو یونین کونسل کی سطح پر فنی اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز قائم کرنے چاہییں تاکہ خصوصاً دیہی علاقوں کے نوجوان جدید اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکیں۔ ہنر مند نوجوان ملکی پیداوار، جدت اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بہتر طرز حکمرانی بھی ناگزیر ہے۔ مؤثر ادارے، شفافیت، احتساب اور میرٹ پر مبنی نظام عوامی اعتماد کی بحالی اور پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ضروری ہیں۔ مضبوط حکمرانی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور مستحکم معاشی ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
قانون اور انصاف کے نظام میں اصلاحات کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ سرمایہ کار اور کاروباری طبقہ اسی وقت اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکتا ہے جب قانون کی حکمرانی، جائیداد کے حقوق کا تحفظ اور فوری انصاف یقینی ہو۔ عدالتی اصلاحات، مقدمات کے جلد فیصلے اور قانونی نظام کی جدید خطوط پر بہتری پاکستان میں کاروباری ماحول کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔
تعلیم کے شعبے کے لیے قومی بجٹ میں زیادہ وسائل مختص کیے جانے چاہییں۔ اسکولوں، جامعات، اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم اور تحقیق میں سرمایہ کاری طویل المدتی قومی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دنیا میں وہی قومیں مضبوط معیشت اور سماجی استحکام حاصل کرتی ہیں جو تعلیم پر بھرپور سرمایہ کاری کرتی ہیں۔
حکومت کو کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ ٹیکس ماحول بھی فراہم کرنا چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ ٹیکس اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مستحکم معاشی پالیسیاں، آسان ٹیکس نظام اور صنعتوں، برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کے لیے مراعات ضروری ہیں۔ نجی شعبے کی مضبوط شمولیت کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔
زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دینا بھی ناگزیر ہے کیونکہ یہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کسانوں کو بیج، کھاد، بجلی اور زرعی مشینری پر سبسڈی فراہم کی جانی چاہیے۔ سستے قرضوں اور بہتر آبپاشی سہولیات کا انتظام بھی ضروری ہے۔ خوشحال کسان دراصل خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ جب کسان مالی طور پر مستحکم ہوں گے تو زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، غذائی تحفظ بہتر ہوگا، دیہی غربت میں کمی آئے گی اور مجموعی معیشت مضبوط ہوگی۔
بجٹ میں بجلی، ایندھن اور ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ توانائی کی بلند لاگت مہنگائی میں اضافے اور صنعتی مسابقت میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ سستی بجلی اور مستحکم ایندھن قیمتیں نہ صرف عوام کو ریلیف فراہم کریں گی بلکہ صنعتوں اور پیداواری شعبے کو بھی سہارا دیں گی۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاونت بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ ادارے ملک میں روزگار اور معاشی سرگرمیوں کا بڑا ذریعہ ہیں۔ آسان قرضوں، کم ٹیکس اور سرکاری پیچیدگیوں میں کمی کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو وسعت دینے اور معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت، معلوماتی ٹیکنالوجی کی برآمدات اور کاروباری جدت پر بھی بھرپور سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ فری لانسرز، نئے کاروباری منصوبے اور ٹیکنالوجی پر مبنی کمپنیاں قیمتی زرمبادلہ کمانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدت اور ڈیجیٹل ڈھانچے کی حوصلہ افزائی پاکستان کو خطے کی مسابقتی معیشت بنا سکتی ہے۔
پروفیسر ندیم اقبال کے مطابق بجٹ 27-2026 کا بنیادی مقصد عوامی اعتماد کی بحالی، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرنا، کسانوں کو بااختیار بنانا، حکمرانی میں بہتری لانا اور تعلیم و ہنر مندی میں سرمایہ کاری ہونا چاہیے۔ اگر حکومت عملی اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کرے تو پاکستان پائیدار معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی خوشحالی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
