ریلوے اسٹیشنز پر فوٹوگرافی پابندی متنازع

5 Min Read
سینیٹ ریلوے کمیٹی نے ریلوے مقامات پر فوٹوگرافی پابندی پر تشویش ظاہر کی، قبضہ مٹانے، چوری سامان کی بازیابی اور بڑے منصوبوں کی پیش رفت طلب کی گئی

بلاگرز اور وی لاگرز پر ریلوے اسٹیشنز میں فلم بندی کی پابندی، سینیٹ کمیٹی نے آئینی حقوق پر سوال اٹھا دیا

ندیم تنولی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے ریلوے اسٹیشنز اور ریلوے املاک پر سوشل میڈیا انفلوئنسرز، بلاگرز اور عام شہریوں کی فلم بندی، فوٹوگرافی اور تشہیری سرگرمیوں پر عائد حکومتی پابندی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی حقِ معلومات اور عوامی رسائی کے خلاف قرار دے دیا۔ کمیٹی نے کراچی میں ریلوے اراضی پر قبضوں، چوری شدہ ریلوے سامان کی ریکوری اور ایم ایل ون سمیت اہم منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سینیٹر دوست علی جیسر، سینیٹر ناصر محمود بٹ اور وزارتِ ریلوے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں سب سے اہم معاملہ ریلوے کی جانب سے جاری کیا گیا وہ عوامی نوٹس تھا جس میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز، بلاگرز اور عام افراد کو ریلوے اسٹیشنز اور دیگر ریلوے مقامات پر تشہیر، فلم بندی اور فوٹوگرافی سے روک دیا گیا تھا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر شہادت اعوان نے وزارتِ ریلوے سے اس نوٹس کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پابندیاں آئینِ پاکستان میں دیے گئے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے متصادم ہو سکتی ہیں۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ چونکہ ریلوے اسٹیشنز عوامی مقامات ہیں، اس لیے اس طرح کی وسیع پابندیوں کا قانونی اور آئینی جواز واضح کیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں کراچی میں ریلوے اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے وزارتِ ریلوے کو ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تجاوزات کے خلاف کی گئی کارروائیوں پر آئندہ اجلاس میں جامع بریفنگ دی جائے۔

کمیٹی نے کراچی میں ریلوے زمین سے قابضین کی منتقلی اور آبادکاری سے متعلق موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ برسوں سے ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضے ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

اجلاس میں ریلوے کے چوری شدہ سامان اور سرکاری اثاثوں کی خرد برد کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ کمیٹی نے متعلقہ ایف آئی آرز اور ریکوری سے متعلق باقاعدہ رپورٹس طلب کرتے ہوئے ذمہ داران کے تعین اور قومی اثاثوں کی واپسی پر زور دیا۔

کمیٹی کو ایم ایل ون، ریلوے ایڈوانسڈ انفراسٹرکچر نیٹ ورک (رین) اور وِم سمیت بڑے ریلوے منصوبوں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ یہ منصوبے پاکستان ریلوے کی جدید کاری، نگرانی، آپریشنل کارکردگی اور حفاظتی نظام بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

مالی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آؤٹ سورس کیے گئے لگیج وینز سے 5 ارب 91 کروڑ 18 لاکھ روپے سے زائد اضافی آمدن حاصل ہوئی۔ کمیٹی نے اسے ریلوے آمدن بڑھانے کی مثبت کوشش قرار دیا۔

کمیٹی نے خشک بندرگاہوں کے قریب واقع ریلوے املاک کو لیز یا کرائے پر دینے کے منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ طلب کی تاکہ غیر استعمال شدہ اثاثوں سے مزید آمدن حاصل کی جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں 177 اور سندھ میں 100 بغیر پھاٹک والے حساس ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے 9 ارب 72 کروڑ 50 لاکھ روپے کے منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ ریلوے حادثات کی روک تھام اور عوامی تحفظ کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

حیات ریجنسی ہوٹل منصوبے سمیت طویل عرصے سے زیر التوا لیز تنازعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان معاملات کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے زور دیا کہ بڑے ریلوے منصوبوں کی فنڈنگ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے روابط اور منصوبہ بندی میں مکمل شفافیت، جوابدہی اور عوامی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

Copied From: Railway ban on bloggers and filming at stations questioned

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے