چیف انجینئر عبدالرحمٰن ساجد چشمہ سے ریٹائر

newsdesk
4 Min Read
چشمہ نیوکلیئر کے چیف انجینئر عبدالرحمٰن ساجد نے طویل خدمات کے بعد ریٹائرمنٹ لی، تربیت، کارکردگی اور قومی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات حاصل کیے۔

راولپنڈی: نیوکلیئر پاور پلانٹ میں نمایاں خدمات انجام دینے کے بعد چیف انجینئر عبدالرحمٰن ساجد چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ جنریٹنگ اسٹیشن سے ریٹائر ہو گئے ہیں، اس دوران انہوں نے بیرونِ ملک چین، جاپان، آسٹریلیا اور کوریا سمیت مختلف ممالک سے جدید تربیت حاصل کر کے اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو مزید نکھارا اور ادارے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے،ملکی دفاع کو مضبوط بنانے میں نمایاں خدمات پر انہیں سال 2000 میں تمغہ بقا سے بھی نوازا گیا۔پاکستان کے نیوکلیئر پاورسیکٹر میں اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات، قائدانہ صلاحیتوں اور شاندار کارکردگی کے باعث 2012 میں گولڈ میڈل سے نوازا گیا ،ان کا پروفیشنل کیریئر واقعی ایک بحرِ بے کراں کی حیثیت رکھتا ہے۔عبدالرحمن ساجد نے 1990 میں یو ای ٹی ٹیکسلا سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور 1993 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کا حصہ بنے۔ اپنے ابتدائی دور میں انہوں نے 2000 تک سی ون پلانٹ میں بطور شفٹ انجینئر خدمات سرانجام دیں۔سن 2000 میں پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) سے ری ایکٹر آپریٹر کا لائسنس حاصل کرنے کے بعد 2006 تک سی ون میں بطور شفٹ انجینئر خدمات جاری رکھیں۔ علمی میدان میں بہتری کے جذبے کے تحت انہوں نے 2006 میں مکینیکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ اسی سال PNRA سے شفٹ سپروائزر کا لائسنس بھی حاصل کیا اور 2010 تک اس عہدے پر فائز رہے۔2010 میں انہوں نے نئے سی ٹو پلانٹ کے لیے بطور شفٹ سپروائزر خدمات انجام دیں اور 2013 تک اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں، جبکہ متعدد مواقع پر ایپریسی ایشن سرٹیفیکیٹس بھی حاصل کیے۔2015 سے 2020 تک عبدالرحمن ساجد نے سی ٹو پلانٹ میں بطور مینیجر آپریشن خدمات سرانجام دیں، جہاں ان کی قیادت میں پلانٹ نے 400 دنوں تک محفوظ اور مسلسل آپریشن کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔ان کی انتظامی اور فنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کراچی میں 1100 میگاواٹ کے نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ڈپٹی پلانٹ مینیجر تعینات کیا گیا۔ بعد ازاں 2024 میں انہوں نے سی ون پلانٹ کے بطور پلانٹ مینیجر چارج سنبھالا، جہاں ان کی قیادت میں پلانٹ نے ایک بار پھر 400 دنوں تک محفوظ اور مسلسل آپریشن کا سنگِ میل عبور کیا۔2025 میں انہیں سی فور پلانٹ کا پلانٹ مینیجر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف محفوظ اور قابلِ اعتماد آپریشن کو یقینی بنایا بلکہ قلیل مدت میں پلانٹ کی عمارتوں کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کروایا۔عبدالرحمن ساجد کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی مسلسل سیکھنے اور سکھانے کی لگن ہے۔ انہوں نے ۔ان کی خدمات صرف تکنیکی میدان تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے چشمہ کالونی میں رہائش اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔“جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے،راہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا”

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے