موسمیاتی فنڈز کی مکمل تفصیلات سینیٹ کو نہ مل سکیں، وزارت نے صرف جی سی ایف اور جی ای ایف منصوبوں کی فہرست پیش کر دی
ندیم تنولی
اسلام آباد: سینیٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان کو موصول ہونے والے موسمیاتی تبدیلی فنڈز کی مکمل تفصیلات وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے براہِ راست فراہم نہیں کیں، جبکہ وزارت نے صرف گرین کلائمیٹ فنڈ (GCF) اور گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی (GEF) کے تحت جاری اور زیرِ عمل منصوبوں کی معلومات ایوان میں پیش کیں۔
یہ تفصیلات سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہرووردی تیمور کے سوال کے جواب میں وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری مصدق ملک کی جانب سے پیش کی گئیں۔ سینیٹر نے پوچھا تھا کہ آیا پاکستان کو گزشتہ پانچ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کے لیے سالانہ تقریباً دو ارب ڈالر موصول ہوئے، اور اگر ہاں تو اس کی ڈونر، سال، منصوبہ اور صوبہ وار تفصیلات کیا ہیں۔
وزارت کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ پاکستان کو موصول ہونے والے فنڈز کی مکمل معلومات اقتصادی امور ڈویژن اور وزارت خزانہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم وزارت نے کلائمیٹ فنانس ونگ کے تحت جاری منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں، جن میں سیلاب سے تحفظ، شمسی توانائی، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت، صاف ٹرانسپورٹ، پانی کے انتظام، قابلِ تجدید توانائی اور کمیونٹی ریزیلینس سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔
سینیٹ کو بتایا گیا کہ گرین کلائمیٹ فنڈ کے تحت مجموعی پراجیکٹ پائپ لائن 6.458 ارب ڈالر پر مشتمل ہے، جبکہ متعلقہ علاقائی منصوبوں میں پاکستان کا حصہ 295.43 ملین ڈالر بتایا گیا۔ اسی طرح جی سی ایف فنانسنگ 866.78 ملین ڈالر ظاہر کی گئی، جس میں پاکستان کا حصہ 331.7 ملین ڈالر بتایا گیا۔
اہم منصوبوں میں گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں “گلیشیائی جھیلوں سے اچانک سیلاب کے خطرات میں کمی” کا منصوبہ شامل ہے، جو یو این ڈی پی کے تعاون سے جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت 250 انجینئرنگ ڈھانچے تعمیر کیے گئے، جن میں بند، اسپِل ویز، نکاسی آب اور شجرکاری شامل ہیں۔
پنجاب اور سندھ میں ایف اے او کے تعاون سے “انڈس بیسن میں موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت اور اسمارٹ واٹر مینجمنٹ” منصوبہ بھی شامل ہے، جس کا مقصد زراعت اور پانی کے نظام کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانا ہے۔
کراچی گرین بی آر ٹی منصوبہ بھی سینیٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے تحت 30 کلومیٹر طویل علیحدہ بس ریپڈ ٹرانزٹ نظام قائم کیا جا رہا ہے، جہاں بایو میتھین ہائبرڈ بسیں چلائی جائیں گی تاکہ آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی لائی جا سکے۔
جواب میں پاکستان ڈسٹری بیوٹڈ سولر پراجیکٹ، ری چارج پاکستان، کمیونٹی ریزیلینس پارٹنرشپ پروگرام، کلائمیٹ ایکشن پاکستان فنڈ، واٹر انفراسٹرکچر فیسلٹی اور دیگر منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
وزارت نے گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی کے منصوبوں کی تفصیلات بھی پیش کیں، جن کی مجموعی مالیت 77.22 ملین ڈالر جبکہ جی ای ایف فنانسنگ 11.3 ملین ڈالر بتائی گئی۔ ان منصوبوں میں پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بایوماس انرجی، کم کاربن معیشت، لینڈ ڈی گریڈیشن کنٹرول اور زرعی فضلے کے استعمال سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔
تاہم سینیٹ میں اصل سوال یعنی پاکستان کو مجموعی طور پر موصول ہونے والے موسمیاتی فنڈز، ڈونر وار تفصیلات، سالانہ رقوم اور مکمل استعمال کی تفصیلات کا براہِ راست جواب نہیں دیا گیا، جس کے باعث شفافیت اور فنڈز کے استعمال کے حوالے سے مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔
Copied From: Climate Ministry Shares GCF and GEF Projects but Not Full Donor Wise Fund Breakup

