مارکہِ حق کی پہلی سالگرہ پر قومی یکجہتی

newsdesk
5 Min Read
فوجی قربانیوں اور عوامی ہم آہنگی کے تناظر میں مارکہِ حق کی پہلی سالگرہ، قومی دفاعی پختگی اور بنیان المرصوص کے اسباق کو اجاگر کرتی ہے

معرکۂ حق کی پہلی برسی: جرات، اتحاد اور عزم کی داستان
تحریر: رضوان طاہر چوہان

پاکستان کی تاریخ بارہا اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی ملک کو کسی چیلنج کا سامنا ہوا، قوم اور افواجِ پاکستان ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہوئیں۔ یہی جذبہ “بنیان المرصوص” کی حقیقی تصویر ہے، جو اتحاد، قربانی اور مشترکہ ذمہ داری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مشکل حالات میں یہی قومی یکجہتی پاکستان کی طاقت بنی اور ملک کو ثابت قدم رکھا۔

پاکستان کی مسلح افواج، جن میں پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ شامل ہیں، نے ہمیشہ وطن کے دفاع میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی قربانیوں کی بدولت ملک کا امن اور سلامتی برقرار ہے۔ بے شمار جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ قوم سکون اور آزادی کی زندگی گزار سکے۔ ان شہداء کا لہو اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ آزادی اور تحفظ بڑی قربانیوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ قوم آج بھی اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی جرات و بہادری کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

آج معرکۂ حق کی تاریخی کامیابی کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے، جسے ملک بھر میں فخر اور عقیدت کے ساتھ یاد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر افواجِ پاکستان نے جس پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا وقار بلند کیا۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت بنی کہ قومی اتحاد، بہتر تیاری اور مضبوط قیادت کسی بھی مشکل صورتحال میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

اس دوران پاکستانی عوام نے بھی قابلِ ذکر کردار ادا کیا اور اپنی افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ قوم نے متحد ہو کر یہ واضح پیغام دیا کہ مشکل وقت میں پاکستان کے عوام ایک ہیں۔ یہی اتحاد پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہی جذبہ ملک کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

بنیان المرصوص کا تصور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کوئی بھی قوم اتحاد کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ جب عوام اپنے اداروں پر اعتماد کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں تو وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی صرف اس کی افواج سے نہیں بلکہ عوام کے شعور، اتحاد اور ذمہ داری سے بھی وابستہ ہے۔

حالیہ برسوں میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کو قومی سلامتی کے معاملات میں مضبوط اور متوازن حکمتِ عملی کے حوالے سے خاص طور پر سراہا گیا۔ ان کی قیادت نے ملکی دفاعی نظام پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا اور یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور باصلاحیت ہے۔

ان واقعات کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے بھی عوام کو بروقت معلومات فراہم کرنے اور غلط اطلاعات کا مؤثر جواب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس عمل نے عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کیا جبکہ پاکستانی میڈیا نے بھی ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔

بنیان المرصوص اور معرکۂ حق کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اتحاد ہی اصل طاقت ہے۔ جب قوم ایک ہو جائے تو کوئی چیلنج اس کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستان کا مستقبل قومی یکجہتی، نظم و ضبط اور مشترکہ عزم سے وابستہ ہے، جبکہ افواجِ پاکستان کی قربانیاں اور عوام کی حمایت مل کر ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد بنتی ہیں۔

مصنف ریسرچر، صحافی اور نمل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے