وزیراعظم کی ہدایت پر ایچ آئی وی ٹاسک فورس تشکیل

newsdesk
4 Min Read
وزیراعظم کی ہدایت پر قائم ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس ہوا، ایچ آئی وی تحقیقات، سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی روک تھام اور عملی سفارشات پر بات ہوئی

وفاقی وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی سربراہی میں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے متعلق اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعدی امراض، پبلک ہیلتھ اور ضابطۂ کار کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ایچ آئی وی سے متعلق کیسز کی نگرانی میں اضافے پر زور دیا گیا۔ٹاسک فورس کے چیئرمین کے طور پر میجر جنرل ریٹائرڈ اظہر محمود کیانی کو مقرر کیا گیا جبکہ سابق معاونِ خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کی ڈین ڈاکٹر سائرہ افضل اور وی سی ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد علی خان بھی اجلاس میں موجود رہے۔ دیگر شرکاء میں خاص سیکرٹری داخلہ اسلام آباد، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور ماہر متعدی امراض ڈاکٹر صبیہ قاضی شامل تھے اور صوبائی سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔قومی ادارہ صحت، این آئی ایچ، سی ڈی سی، سی ایم یو، ڈریپ، صوبائی محکمہ جات اور یو این ایڈز کے حکام نے ڈیٹا اور مانیٹرنگ کے مسائل پر بریفنگ دی۔ ٹاسک فورس نے ہدایت کی کہ این آئی ایچ، سی ڈی سی اور سی ایم یو کے ڈیٹا کے حوالے سے ریئل ٹائم ڈیش بورڈ فعال کیا جائے تاکہ ایچ آئی وی کیسز کی نگرانی، رجحانات کا تجزیہ اور رابطہ کاری کا نظام مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ صورتِ حال کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے عملی سفارشات مرتب کی جائیں۔ خصوصی طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے واقعات کی فوری چھان بین اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی تاکید کی گئی تاکہ مریضوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ٹاسک فورس نے طبی مراکز اور فارمیسیوں کی باقاعدہ انسپیکشن، خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے اور دوبارہ استعمال کے قابل سرنجوں کی فروخت یا غلط لیبلنگ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ ڈریپ کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمام میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی سخت اور مسلسل نگرانی کرے تاکہ سرنجوں کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایچ آئی وی کو اطلاع پذیر بیماریوں کی فہرست میں شامل کیا جائے اور ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے۔ ہائی رسک گروپس اور متاثرہ علاقوں میں ٹیسٹنگ، علاج اور حفاظتی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔طبی مراکز میں آپریشن سے قبل اسکریننگ میں ایچ آئی وی ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے، مریضوں کی حفاظت کے پروٹوکولز کے موثر نفاذ اور سرنجوں کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات بھی دی گئیں۔ ٹاسک فورس نے ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر کمیشنز کو مکمل طور پر فعال، مستحکم اور بااختیار بنانے کی تاکید کی تاکہ سفارشات بروقت نافذ ہوں۔اجلاس میں بچے ایچ آئی وی متاثرین کے لئے گھر کی دہلیز پر ادویات اور معیاری طبی معاونت فراہم کرنے، ڈیٹا مینجمنٹ کے واضح ذمہ داریاں تفویض کرنے اور بارڈر ہیلتھ سروسز کو ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی ایئرپورٹس اور دیگر داخلی راستوں پر اسکریننگ یقینی بنانے کے لئے بھی رہنمائی جاری کی گئی۔ ٹاسک فورس نے کہا کہ شواہد پر مبنی اور قابلِ عمل اقدامات اختیار کیے جائیں گے تاکہ ایچ آئی وی سمیت خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں خاطر خواہ پیش رفت ممکن ہو۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے