حیدر علییف: جدید آذربائیجان کے معمار اور ایک ناقابلِ فراموش قومی ورثہ

newsdesk
5 Min Read
حیدر علی یف کی قیادت نے آذربائیجان کی ریاستی تعمیر، ثقافتی شناخت اور توانائی کی حکمت عملی کو مستحکم کیا، ان کا ورثہ آج بھی رہنمائی کرتا ہے۔

حیدر علییف: جدید آذربائیجان کے معمار اور ایک ناقابلِ فراموش قومی ورثہ

فرید مصطفیٰ یف

باکو / اسلام آباد: جدید تاریخ میں بہت کم سیاسی شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنے ملک کی تقدیر پر اتنا گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا ہو جتنا حیدر علییف نے آذربائیجان پر ڈالا۔ انہیں جدید آذربائیجان کا معمار، قومی ریاست کے بانی اور قومی شناخت کو مضبوط بنانے والی عظیم قیادت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

10 مئی 1923 کو نخچیوان میں پیدا ہونے والے حیدر علییف نے اپنی پوری زندگی قوم اور ریاست کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ نظم و ضبط، غیر معمولی سیاسی بصیرت اور مضبوط انتظامی صلاحیتوں کے باعث وہ جلد ہی آذربائیجان کی تاریخ کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار ہونے لگے۔

1969 میں ان کی قیادت نے آذربائیجان کی ترقی کا ایک نیا باب کھولا۔ اُس وقت آذربائیجان سابق سوویت یونین کی نسبتاً کم ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار ہوتا تھا، تاہم حیدر علییف کی قیادت میں ملک نے صنعتی، معاشی اور سماجی ترقی کی تیز رفتار راہ اختیار کی۔ نئی صنعتیں قائم ہوئیں، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا جبکہ تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اسی دور میں ہزاروں آذربائیجانی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے سوویت یونین کے ممتاز اداروں میں بھیجا گیا، جس نے مستقبل کے قومی ماہرین اور قیادت کی بنیاد رکھی۔

حیدر علییف نے قومی تشخص، زبان اور ثقافتی اقدار کے تحفظ کو ہمیشہ اپنی پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا۔ “آذربائیجانیت” کے نظریے کو فروغ دیتے ہوئے انہوں نے قومی اتحاد، حب الوطنی اور ریاست سے وفاداری کو مضبوط کیا۔ ان کا مشہور قول، “مجھے ہمیشہ اس بات پر فخر رہا ہے اور آج بھی ہے کہ میں آذربائیجانی ہوں”، آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ سمجھا جاتا ہے۔

1980 کی دہائی کے اختتام اور 1990 کی دہائی کے آغاز میں جب سوویت یونین شدید سیاسی بحران کا شکار تھا، حیدر علییف نے جرات مندانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے آذربائیجان کے عوام کے حقوق اور وقار کا دفاع کیا۔ 20 جنوری 1990 کے المناک واقعات پر انہوں نے کھل کر سوویت قیادت کی مذمت کی، جس پر انہیں قومی سطح پر بے پناہ احترام حاصل ہوا۔

1990 سے 1993 کے دوران نخچیوان میں قیادت کرتے ہوئے انہوں نے آزاد آذربائیجان کی نظریاتی اور عملی بنیادیں رکھیں۔ قومی پرچم کو سرکاری حیثیت دینا اور خودمختاری کے حق میں واضح مؤقف ان کے اسی دور کے اہم اقدامات تھے۔

1993 میں سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی جیسے خطرات کے دوران عوام نے دوبارہ حیدر علییف کو قیادت کے لیے منتخب کیا۔ ان کی واپسی نے ملک میں استحکام پیدا کیا، ریاستی اداروں کو مضبوط کیا اور جدید جمہوری و قانونی نظام کی بنیاد رکھی۔

حیدر علییف کی سب سے بڑی کامیابیوں میں آذربائیجان کی توانائی حکمتِ عملی کو عالمی سطح پر متعارف کرانا شامل ہے۔ “کنٹریکٹ آف دی سنچری” سمیت اہم تیل و گیس منصوبوں نے ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا اور آذربائیجان کو خطے کا ایک اہم توانائی مرکز بنا دیا۔

بین الاقوامی سطح پر بھی انہوں نے متوازن، حقیقت پسندانہ اور قومی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں آذربائیجان ایک قابلِ اعتماد اور باوقار ملک کے طور پر ابھرا۔

نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور قومی شعور کی بیداری بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہی۔ انہوں نے نوجوان نسل کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے ان کی تعلیمی اور اخلاقی ترقی پر خصوصی توجہ دی۔

نیو آذربائیجان پارٹی، جو 1992 میں ان کی قیادت میں قائم ہوئی، آج بھی ملک کی اہم سیاسی قوت سمجھی جاتی ہے اور ریاستی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

اگرچہ حیدر علییف 2003 میں دنیا سے رخصت ہو گئے، تاہم ان کا سیاسی وژن اور نظریاتی ورثہ آج بھی الہام علییف کی قیادت میں جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق 44 روزہ جنگ میں آذربائیجان کی کامیابی اور علاقائی خودمختاری کی بحالی بھی اسی مضبوط ریاستی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس کی بنیاد حیدر علییف نے رکھی تھی۔

آج حیدر علییف کو جدید آذربائیجان کے معمار، قومی نظریے کے بانی اور ایک ایسی تاریخی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جن کی قیادت نے ملک کو استحکام، ترقی اور عالمی وقار عطا کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے