پاکستان میں بچوں کے خون میں سرب کی بلند مقداریں

newsdesk
4 Min Read
حکومت اور یونیسف کے مطالعے میں ہدفی شہروں کے کم عمر بچوں میں سرب کی نمائش عام نکلی، فوری حفاظتی اور نگرانی کے اقدامات درکار ہیں

حکومتِ پاکستان اور یونیسف کے مشترکہ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ہدفی صنعتی علاقوں میں بارہ سے چھتیس ماہ عمر کے بچوں میں سرب کا زہریلا پن قابلِِ توجہ پایا گیا ہے۔ اس تجزیے میں دو ہزار ایک سو سے زائد بچوں کے خون کے نمونے شامل تھے اور مجموعی طور پر تقریباً چالیس فیصد بچوں میں خون میں سرب کی بلند مقداریں معلوم ہوئیں۔مختلف شہروں میں صورتحال مختلف رہی؛ ہٹر، ہری پور میں سب سے زیادہ صورتِ حال تشویشناک تھی جہاں متاثرہ بچوں کی شرح اٹھاسی فیصد رہی جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح صرف ایک فیصد ریکارڈ ہوئی۔ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی کے ہائی رسک علاقوں میں بھی نمایاں فرق دیکھا گیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ مقامی ماحولیاتی اور صنعتی عوامل کا بچوں کی صحت پر بڑا اثر ہے۔مطالعے میں ممکنہ ذرائعِ نمائش کے طور پر صنعتی اخراجات، غیرقانونی یا غیررسمی بیٹری ری سائیکلنگ، لیڈ پر مبنی پینٹ، آلودہ مصالحہ جات اور غذائیں اور روایتی آرائشی اشیاء شامل کیے گئے ہیں۔ یہ عوامل ضابطہ کاری کی کمزوری، نگرانی کے خلاء اور عوامی شعور کی کمی کے باعث بچوں میں سرب کا زہریلا پن جاری رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔وفاقی سیکرٹریِ صحت محمد اسلم غوری نے کہا کہ بچوں کو سرب کے اثرات سے بچانا قومی صحت کی ترجیح ہے اور اس شواہد نے صحت، ماحول اور ضابطہ کاری کے شعبوں میں فوری ہم آہنگی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نگرانی مضبوط کرے گی، معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور بچّوں کے صحت کے پروگراموں میں روک تھام کو شامل کیا جائے گا۔یونیسف کی نمائندہ پرنیلے ایرونسائیڈ نے بتایا کہ بچے بالغوں کے مقابلے میں سرب کو زیادہ جذب کرتے ہیں اور اس کا اثر دماغی نشوونما پر دیرپا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی محفوظ حد نہیں ہے اور سرب کا زہریلا پن تعلیمی صلاحیت اور معیشت پر طویل المدت منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔شریکِ کاران اور ماہرین نے موقع پر ترجیحات پر اتفاق کیا جن میں خطرناک مصنوعات سے سرب ختم کرنے کے لیے قومی عملی منصوبہ، بچوں کی صحت کے پروگراموں کے تحت خون میں سرب کی نگرانی، عوامی شعور کی مہمات، حکومت کی سربراہی میں کثیر شعباتی ٹاسک فورس اور پالیسی و سرمایہ کاری کے لیے بہتر شواہد تیار کرنا شامل ہیں۔ پارٹنرشپ برائے سرب سے پاک مستقبل کے نمائندہ عبداللہ فاضل نے کہا کہ سرب کا زہریلا پن ایک قابلِ روک دھمکی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے جامع ضابطہ، سخت نفاذ اور مستقل سرمایہ کاری ضروری ہے۔مزید شواہد اکٹھا کرنے کے لیے اسی سال بعد ازاں ایک قومی نمائندہ سروے کرانے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جس میں بچوں کے علاوہ حاملہ خواتین کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ خطرات اور ترجیحات کی بنیاد پر مؤثر پالیسی اور پروگرام بنائے جا سکیں۔ سرب کا زہریلا پن کے تدارک کے لیے مہمات، قانون سازی اور ضابطہ کاری کے بہتر نفاذ پر زور دیا گیا ہے تاکہ آئندہ نسلوں کی صحت اور تعلیمی امکانات محفوظ بنائے جا سکیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے