سری لنکا کے ہائی کمشنر کی وفاقی وزیر سے ملاقات

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں سری لنکا کے ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر برائے ثقافت سے گندھارا ورثہ، مذہبی سیاحت اور نوادرات کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا

اسلام آباد میں جمعرات کو سری لنکا کے ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ فریڈ سینیورتھنے نے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جناب اورنگزیب خان خچی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ساتھ موجود تھے معزز بدھ مت راہب تھیبو اور دیگر اعزاز یافتہ افراد جنہوں نے دونوں طرفہ ثقافتی تعاون اور مذہبی سیاحت کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی۔وفاقی وزیر نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے سری لنکائی بھائیوں خصوصاً بدھ مت برادری کے لئے دروازے کھولا ہوا ہے تاکہ وہ یہاں کے تاریخی بدھانے ورثوں کا مشاہدہ کر سکیں۔ وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان گندھارا ورثہ اور اس سے منسلک مقدس مقامات کی حفاظت اور مذہبی سیاحت کو آسان بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ہائی کمشنر فریڈ سینیورتھنے نے اس خوشگوار رویے کو سراہا اور دورانیہ ملازمت کے دوران دونوں ممالک کے مابین ثقافتی روابط بڑھانے اور بدھ برادری کے لئے مزید مواقع پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی حفاظتِ آثار اور میزبانی کے اقدامات کی تعریف کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سری لنکا پاکستان کے لئے ایک قدیم اور معتبر دوست ہے اور عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کو طویل المدتی تعاون کی بنیاد قرار دیا۔ وزیر نے عوامی تبادلے کو باہمی تفہیم بڑھانے کا مؤثر طریقہ بتایا۔معزز راہب تھیبو نے پاکستان کی جانب سے بودا کے ورثے کے تحفظ پر شکریہ ادا کیا اور گندھارا کے تاریخی مقامات کے تحفظ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے خطے کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی اہمیت پر زور دیا اور سری لنکا میں اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے وفد کو گندھارا ورثہ کے تحفظ کے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزارت کی قیادت میں اٹلی سے تقریباً ہزار نوادرات واپس لائے جا چکے ہیں اور آسٹریلیا سے ہزاروں نوادرات کی واپسی کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ سیکریٹری نے محفوظ رکھنے اور بحالی کے پروٹوکول میں بہتری کے لئے سری لنکا کی تجاویز خوش آمدید کہنی۔ملاقات میں اسلام آباد میں گندھارا کارنر قائم کرنے کی تجویز پر اتفاق ہوا جس کا مقصد نوادرات کو محفوظ رکھنا اور عوام کے لئے نمائش مہیا کرنا ہے۔ وفد کو اسلام آباد میوزیم کے نئے گیلری سمیت ٹیکسلا، تختِ بھائی، سوات و تھل کے بین الاقوامی سطح کے بدھ مت مقامات کی زیارت کی دعوت دی گئی تاکہ وہ براہِ راست گندھارا ورثہ کا تجربہ حاصل کر سکیں۔وفد اور وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ ثقافتی روایتیں مختلف ہو سکتی ہیں مگر خطہ مشترک ہے اور گندھارا ورثہ کا تحفظ محض پاکستان کا نہیں بلکہ پورے خطے کی خدمت ہے۔ دونوں فریقین نے ثقافتی تبادلے کو ترجیحی بنیاد پر فروغ دینے کا عزم دہرایا تاکہ عوامی روابط اور باہمی احترام کو مزید استحکام ملے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے