نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دینے کے بعد گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے صحافی برادری کے مسائل کے حل کا عزم دہرایا۔ گورنر پنجاب نے واضح کیا کہ صحافیوں کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات میں رعایت دلوانے کی کوشش کی جائے گی اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ہر ممکن تعاون ہوگا۔گورنر پنجاب نے کہا کہ میڈیا ٹاؤن فیز دو کے لیے صحافیوں کا مقدمہ ان کے ساتھ مل کر لڑا جائے گا اور نیشنل پریس کلب کے انتخابات کو سیاستدانوں کے لیے مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر ہاؤس کا بجٹ براہِ راست صحافیوں کو دینے سے نیب کے کیس کا اندیشہ ہے اس لئے جو بھی ممکن ہو گا وہ ذاتی حیثیت میں معاونت کریں گے۔سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی جدوجہد میں صحافیوں کے ساتھ مل کر قربانیاں دیں اور وہ انہی کمٹمنٹس کو یاد رکھتے ہیں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ جب تک صدر زرداری سربراہی میں ہیں مخلوط حکومت ایک صفحے پر ہے اور اتحادی جماعتیں عوام کے دکھوں کا مداوا مل کر کریں گی۔گورنر پنجاب نے دفاعی قیادت اور سفارتکاری کی کامیابیوں پر بھی زور دیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشَل جنرل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ایسی عزت پاکستان کو پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی کامیاب سفارتکاری کی بدولت پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے اور بعض معاملات میں مخالفت کے باوجود مذاکرات کی میز پر مقابل فریق بھی آئے ہیں۔صدر زرداری کے حالیہ دورۂ چین کے بارے میں گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کو مضبوط بنانے کے عزم کا عملی مظاہرہ ہے اور پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے والی سازشیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے انچارج قیادت کی کوششوں کو ملکی مفاد میں کارگر قرار دیا اور کہا کہ پاکستان جنگ بندی کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔گورنر پنجاب نے پلوغام واقعے کو غلط ثابت قرار دینے والے بین الاقوامی جائزوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ حقائق سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے بیان دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ وزیراعظم اور عسکری قیادت کی تعریف کرتے ہیں، تاہم گورنر پنجاب نے کہا کہ قومی مفاد اور صحافی برادری کے حقوق کو مقدم رکھا جائے گا۔نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر راؤ فرقان علی، نائب صدر بشیر چوہدری اور دیگر رہنماؤں نے گورنر پنجاب کا استقبال کیا اور پریس کلب کے لئے الیکٹرونک ووٹنگ، ممبران کے بچوں کی فیس میں رعایت اور صحت کے بہتر انتظامات کی درخواست کی۔ گورنر پنجاب نے ان درخواستوں کو غور سے سنا اور عملی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
