پاکستانی نوجوان فٹبال ٹیم نے شیمکنٹ، قزاقستان میں منعقدہ یوفا کے ترقیاتی ٹورنامنٹ میں پہلی بار شرکت کرتے ہوئے نہ صرف تاریخ رقم کی بلکہ قیمتی تجربات بھی حاصل کیے۔ میزبان ٹیم کے خلاف میچ میں پاکستان کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر مقابلے کے درمیان نوجوانوں کی محنت اور بہتری کے اشارے واضح نظر آئے۔میزبان ٹیم نے ابتدائی 45 منٹ میں میچ پر کنٹرول دکھایا اور ساتویں منٹ میں پینالٹی پر پلاٹون شیپسٹن نے پہلی گول داغا۔ بیسویں منٹ کے قریب انوار تولندی نے ایک تیز کاؤنٹر کے بعد دوسرا گول کیا جبکہ تیسویں منٹ میں دفاعی خامی کا فائدہ اٹھا کر ڈیوڈ زاریکنی نے تیسرا گول اسکور کیا۔ پہلے ہاف کے اضافی وقت میں دانیار قاسی نے چوتھا گول سر کر ٹیم کا سکور چار تک پہنچایا۔دوسرے ہاف میں پاکستان نے بہتر حکمت عملی کے ساتھ واپسی کی کوشش کی اور کپتان عبدالسامد نے طاقتور ہیڈ سے گول کر کے ٹیم کا اعزاز برقرار رکھا۔ یہ گول محمد ہنزالہ کے صحیح کراس کا نتیجہ تھا جس نے امید جگا دی۔ میچ کے بعد بڑے مثبت اشارے یہ تھے کہ ٹیم نے مشکلات کے بعد خود کو منظم کیا اور کئی مواقع بھی بنائے، جن میں متبادل کھلاڑی دانیش مسیح کے دو قریب آنے والے شاٹس شامل تھے۔ہیڈ کوچ محمد عیسا نے میچ کے بعد کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان کی طرف سے کسی یوفا مقابلے میں حصہ لیا گیا ہے اور اس تجربے کی قدر ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلا ہاف مشکلات سے بھرپور تھا مگر ٹیم نے وقفے کے بعد بہتر جوابی کارکردگی دکھائی جو آئندہ کے لیے مثبت نشان ہے۔پاکستانی اسکواڈ نے چار گول کے خسارے کے باجود میدان چھوڑنے سے قبل حوصلہ برقرار رکھا اور آنے والے میچز کے لیے سیکھ حاصل کی۔ اگلا مقابلہ پاکستان کے لیے ۲۷ اپریل ۲۰۲۶ کو روس کے خلاف شیڈول ہے جہاں کوچ اور کھلاڑی بہتر کارکردگی دکھا کر اس تجربے کو فائدے میں بدلنے کی کوشش کریں گے۔یہ موقع نوجوان فٹبال کے لیے اہم مانی جائے گا کیونکہ بین الاقوامی سطح کے سخت مقابلے نے کھلاڑیوں کو اپنی خامیوں اور قوتوں کی بہتر سمجھ دی، جو مستقبل میں ٹیم کی ترقی میں معاون ثابت ہوگی۔
