اسلام آباد میں عارضی مویشی منڈیوں کی نیلامی میں مجموعی طور پر ۳۴۹٫۵ ملین روپے کا ریکارڈ حاصل ہوا ہے اور مویشی منڈیوں میں کیش لیس نظام کو لاگو کیا جائے گا تاکہ لین دین میں شفافیت برقرار رہے۔ یہ اقدام عوامی سہولت اور احتیاطی تدابیر کو مؤثر بنانے کے عین مطابق ہے اور عارضی مویشی منڈیوں کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کا حصہ تصور کیا گیا ہے۔
نیلامی کے دوران مختلف مقامات کی تفصیل میں سیکٹر I-12 کی عارضی مویشی منڈی سب سے زیادہ قیمت پر نیلام ہوئی، جس کی قیمت ۲۰۰٫۱ ملین روپے رہی۔ سنگجانی کی عارضی منڈی ۶۲٫۵ ملین روپے میں نیلام ہوئی جبکہ ضیاء مسجد کے مقام پر قائم منڈی ۵۰ ملین روپے میں فروخت ہوئی۔ سلطانہ فائونڈیشن کے مقام پر منڈی ۲۵ ملین روپے میں جبکہ جاپان روڈ اور بہارہ کہو کے مقامات پر بالترتیب ۶٫۲ ملین روپے اور ۶٫۱ ملین روپے میں نیلامی ہوئی، جس کے نتیجے میں کل مقدار ۳۴۹٫۵ ملین روپے بنتی ہے۔
نیلامی کے عمل میں مجموعی طور پر ۱۰۴ بولی دہندگان نے شرکت کی اور گزشتہ برس کی نیلامیوں کے مقابلے میں تقریباً ۱۲۰ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ اس موقع پر مہرہ فروشوں اور انتظامیہ نے کہا کہ عارضی مویشی منڈیاں نظم و ضبط کے تحت چلائی جائیں گی اور کیش لیس لین دین شہریوں کے لیے آسانی اور اعتماد کا باعث ہوگا۔
شہری انتظامیہ کی متعلقہ ٹیمیں غیرقانونی مویشی منڈیوں کے قیام کو روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ شہر کی صفائی اور حفظانِ صحت کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر سہیل اشرف کی ہدایت کے مطابق غیرقانونی منڈیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ عوامی سہولت اور تحفظ یقینی بن سکے۔
اس سلسلے میں عارضی مویشی منڈیاں نہ صرف مالی لحاظ سے اہم ثابت ہوئیں بلکہ انتظامی نقطہ نظر سے بھی انہیں بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ عارضی مویشی منڈیاں شہر میں صفائی، حفظانِ صحت اور عوامی سہولت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چلائی جائیں گی اور کیش لیس نظام کے نفاذ سے شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق لین دین کو فروغ ملے گا۔
