تحصیل سطح پر یونیورسٹی سب کیمپسز کے قیام پر فوری پابندی، ایچ ای سی کا ملک گیر فیصلہ
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھر میں تحصیل سطح پر یونیورسٹی سب کیمپسز کے قیام اور آپریشن پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ تعلیمی معیار، انتظامی کمزوریوں اور ادارہ جاتی پائیداری سے متعلق سنگین خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ایک جامع جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیشتر تحصیل سطح کے سب کیمپسز بنیادی تعلیمی ڈھانچے، پی ایچ ڈی فیکلٹی اور طلبہ کی پائیدار تعداد سے محروم ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایسے کیمپسز محدود وسائل، کمزور گورننس اور ناکافی لیبارٹری و تکنیکی سہولیات کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس سے فراہم کی جانے والی ڈگریوں کے معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
نئے احکامات کے تحت تمام جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تحصیل سطح پر کسی بھی سب کیمپس کے قیام، تشہیر یا آپریشن سے فوری طور پر گریز کریں۔ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ ایسے کیمپسز کو نہ تو این او سی جاری کیا جائے گا، نہ ہی ایکریڈیٹیشن یا ڈگریوں کی تصدیق کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کے نتیجے میں ان کی تعلیمی حیثیت ختم ہو جائے گی۔
کمیشن نے مزید ہدایت دی ہے کہ تحصیل سطح کے کیمپسز سے متعلق تمام زیر التواء منصوبے فوری طور پر معطل تصور کیے جائیں۔ اداروں کو داخلوں، بھرتیوں، اراضی کے حصول اور تعمیراتی سرگرمیوں سمیت تمام متعلقہ اقدامات روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایسے تمام منصوبے جو کسی بھی سطح پر زیر غور ہیں، انہیں ایچ ای سی کے جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ایچ ای سی نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر منظور شدہ تحصیل سطح کے سب کیمپسز سے جاری کی جانے والی ڈگریاں نہ تسلیم کی جائیں گی اور نہ ہی ان کی تصدیق کی جائے گی، جس سے ہزاروں طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس ہدایت کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اداروں کی قیادت، بشمول وائس چانسلرز، ریکٹرز اور گورننگ باڈیز کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
یہ اقدام پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ضابطہ کار کو مزید سخت بنانے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حکام غیر معیاری توسیع کو روکنے اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
