اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا استنبول میں 152ویں آئی پی یو اسمبلی سے خطاب
کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، اسپیکر قومی اسمبلی
پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے اور مزاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا ، اسپیکر سردار ایاز صادق
استنبول، ترکیہ: 16 اپریل 2026: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے استنبول میں انٹر پارلیمانی یونین (IPU) کی 152ویں اسمبلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے “مستقبل کی نسلوں کے لیے امید کو فروغ دینا، امن کو یقینی بنانا اور انصاف کی فراہمی” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائی قبل انسانیت کی اجتماعی خواہش سے قائم ہونے والا بین الاقوامی نظام اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں حل طلب تنازعات، طویل تنازعات اور ابھرتے ہوئے عالمی بحران درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگیں شدید انسانی مصائب، نقل مکانی اور عالمی امن کے ڈھانچے پر اعتماد کے زوال کا باعث بن رہی ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان پارلیمانی سفارتکاری کو اعتماد سازی، تعاون کے فروغ اور تنازعات کی روک تھام و حل کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں بشمول طاقت کے استعمال سے گریز، حقِ خودارادیت، خودمختار برابری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت اور تنازعات کا پرامن حل پر عمل درآمد عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار امن طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ مکالمے، باہمی احترام اور جامع سفارتکاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ اقوام متحدہ کا چارٹر تنازعات کے پرامن حل کے لیے جامع طریقہ کار فراہم کرتا ہے، تاہم ان ذرائع کو یا تو کم استعمال کیا جا رہا ہے یا منتخب انداز میں لاگو کیا جا رہا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کو حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھنا جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے اور بین الاقوامی قانون اور بین الریاستی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حصے کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ فلسطینی عوام مسلسل قبضے، بے دخلی، منظم تشدد اور حقِ خودارادیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران 71 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، شہید ہو چکے ہیں، خاص طور پر غزہ میں، جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔اسپیکر نے کہا کہ ان سنگین حالات کے باوجود عالمی سفارتی کوششوں نے امن کی راہیں ہموار کی ہیں، جن میں جولائی میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی کانفرنس کے نتائج اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے نیویارک اعلامیے کی توثیق شامل ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے صدر ٹرمپ کی قیادت میں اور پاکستان سمیت متعدد عرب و اسلامی ممالک کی حمایت سے غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر سیاسی عمل کے ذریعے 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے سفارتی روابط پر يقین رکھتا ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، ڈپٹی وزیرِ اعظم محمّد اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی فوری جنگ بندی کی اپیل پر مثبت ردعمل دیا اور 11 تا 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی۔ انہوں نے ان مذاکرات کو پاکستان کی سہولت کاری سے حاصل ہونے والی ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ دونوں فریقین نے مثبت ماحول میں تعمیری مکالمہ کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے تسلسل اور علاقائی امن و خوشحالی کے لیے مکالمے کو جاری رکھنے پر زور دیا۔
افغانستان کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسپیکر نے تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان بدستور دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مکالمے کو ترجیح دیتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری دفاعی اقدامات کرے گا۔
ماحولیاتی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے اسپیکر نے اسے دنیا کے اہم ترین چیلنجز میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے قومی اقدامات کا ذکر کیا جن میں ریچارج پاکستان پراجیکٹ، نیشنل کاربن مارکیٹ پالیسی اور موسمیاتی حساس بجٹ سازی شامل ہیں، جن کا مقصد ماحولیاتی لچک پیدا کرنا اور سبز معیشت کی جانب منتقلی ہے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے عالمی پارلیمانی برادری کی مشترکہ ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئی پی یو کے تمام رکن ممالک کی پارلیمانوں کے ساتھ مل کر وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے کے لیے کام جاری رکھے گا تاکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے امید، امن اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
