اسلام آباد میں اساتذہ کی منصفانہ تقسیم

newsdesk
4 Min Read
وفاقی محکمہ تعلیم نے اسلام آباد میں ۶۳۱ اساتذہ کی منصفانہ تقسیم کر کے دیہی اور شہری اسکولوں میں تعلیمی توازن بحال کیا۔

حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی طویل عرصے سے جاری کمی کو دور کرنے کے لیے ایک اہم اور مؤثر قدم اٹھایا ہے۔ سیکرٹری تعلیم جناب ندیم محبوب کی خصوصی ہدایات پر خالی تدریسی اسامیوں کو ازسرِ نو منظم کرتے ہوئے اُن اداروں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں اساتذہ کی اشد ضرورت تھی۔ اس اقدام کو تعلیمی حلقوں، والدین اور عوام کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق اس اقدام کا مقصد اُن تعلیمی اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر اساتذہ فراہم کرنا ہے جہاں شدید کمی کے باعث تدریسی عمل متاثر ہو رہا تھا، جبکہ بعض اداروں میں کم داخلوں کی وجہ سے اسامیاں غیر مؤثر ہو چکی تھیں۔ ان اسامیوں کو اب زمینی حقائق کے مطابق ازسرِ نو تقسیم کیا گیا ہے تاکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں ایک متوازن اور مؤثر تعلیمی نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس اقدام کے تحت اسلام آباد کے دیہی علاقوں خصوصاً ترنول، بارہ کہو، نیلور اور سہالہ کے تعلیمی اداروں کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کے اُن اسکولوں میں بھی اساتذہ تعینات کیے گئے ہیں جہاں کمی انتہائی سنگین ہو چکی تھی۔ حکام کے مطابق چاروں تعلیمی سیکٹرز میں اساتذہ کی منصفانہ اور ضرورت کے مطابق تقسیم سے مجموعی تعلیمی معیار میں واضح بہتری آئے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 631 اسامیوں کو ازسرِ نو تقسیم کیا گیا ہے جن میں 148 سیکنڈری اسکول ٹیچر (SST) (مرد و خواتین)، 348 سینئر ایلیمنٹری ٹیچر (SET)، اور 135 ایلیمنٹری اسکول ٹیچر (EST) کی اسامیاں شامل ہیں۔ ان میں سے 523 اسامیاں شہری علاقوں سے دیہی تعلیمی اداروں کو منتقل کی گئی ہیں، جو طویل عرصے سے مختلف اداروں میں خالی پڑی تھیں۔

شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) کے ڈائریکٹر جنرل کی نگرانی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر اسکولز اور چاروں سیکٹرز کے متعلقہ افسران شامل تھے۔ تفصیلی جائزے کے بعد کمیٹی نے اس امر کو یقینی بنایا کہ اسامیوں کی منتقلی مکمل طور پر زمینی حقائق اور ادارہ جاتی ضروریات کے مطابق ہو۔

تعلیمی اداروں کے سربراہان نے اس اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل اب بڑی حد تک حل ہو جائیں گے۔ والدین اور عوامی حلقوں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے طلبہ کی تعلیم میں تسلسل اور تدریسی معیار میں بہتری کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

ماہرینِ تعلیم کے مطابق یہ بروقت فیصلہ نہ صرف سرکاری اسکولوں کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ دیہی و شہری علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جس سے طلبہ کو یکساں اور معیاری تعلیمی مواقع میسر آئیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے