استنبول سمٹ میں پاکستان کا مؤثر کردار، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نئی پیش رفت

newsdesk
4 Min Read
یوریشیا سمٹ ٢٠٢٦ میں پاکستان کی شاندار شرکت؛ سمیرا رحمن کی رہنمائی اور جامعاتی وفد نے تعلیمی سفارتکاری کو نئی پہچان دی

اسلام آباد: پاکستان نے استنبول میں منعقدہ یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ 2026 میں عالمی تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے خود کو ایک بااعتماد اور مستقبل بین آواز کے طور پر منوایا۔

دنیا کے بڑے تعلیمی اجتماعات میں شمار ہونے والے اس سمٹ میں 61 ممالک کے نمائندگان، 380 سے زائد جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان، وزراء، پالیسی ساز اور ماہرین تعلیم شریک ہوئے، جہاں پاکستان کی شرکت کو خصوصی توجہ حاصل رہی۔

ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان کی قیادت میں 42 رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے 17 نمایاں جامعات کی نمائندگی کی، جبکہ او آئی سی کامسٹیک کی شرکت نے اس نمائندگی کو مزید مضبوط بنایا۔

سمٹ کی نمایاں خصوصیت سپیریئر یونیورسٹی کی ریکٹر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی رکن پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان کا کلیدی خطاب تھا، جو افتتاحی سیشن میں واحد خاتون مقرر کے طور پر سامنے آئیں۔ انہوں نے پاکستان کی تعلیمی ترقی اور عالمی وژن کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم کا مستقبل صرف تکنیکی مہارت تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اور ذمہ دار قیادت کی تشکیل بھی اتنی ہی اہم ہے۔ انہوں نے “لیڈنگ ود کریکٹر” کے تصور کو متعارف کراتے ہوئے ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت پر زور دیا جو علمی معیار کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کو بھی فروغ دے۔

ان کے خطاب کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور پاکستان کو تعلیمی مکالمے میں ایک مؤثر آواز کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

سمٹ کے دوران پاکستانی وفد کی ترکیہ کی کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ایرول اوزوار سے اہم ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون، تحقیق، جدت اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ترکیہ کی جانب سے پاکستان کو 500 تحقیقی منصوبوں کے اقدام میں شمولیت کی دعوت بھی دی گئی، جس سے مشترکہ تحقیق کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستانی وفد کی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا جبکہ مختلف ممالک کے تعلیمی اداروں نے پاکستانی جامعات کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

سمٹ میں قائم پاکستان پویلین بھی توجہ کا مرکز بنا رہا، جہاں مختلف ممالک کے وفود اور جامعات کے نمائندگان نے اشتراک اور تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس دوران یورپ، ایشیا اور امریکہ کے اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں اور مشترکہ منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔

مجموعی طور پر یوریے 2026 میں پاکستان کی شرکت نے یہ واضح کیا کہ تعلیمی سفارتکاری عالمی روابط کا ایک اہم ستون بن چکی ہے، اور پاکستان اس میدان میں اپنی مؤثر موجودگی کے ذریعے عالمی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے