پاکستان کو وبائی خطرات سے بچاؤ کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ہدایت

newsdesk
4 Min Read
وفاقی سیکرٹری نے یک صحت نظام کو فوراً مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور دو روزہ تربیتی ورکشاپ میں مربوط نگہداشت کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری وزارتِ قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی محمد اسلم غوری نے ملک میں ون ہیلتھ نظام کو فوری طور پر مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی شعبوں کے درمیان مربوط حکمتِ عملی کے بغیر مستقبل کی وباؤں کو روکا نہیں جا سکتا۔

وہ منگل کے روز ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام کامسٹیک سیکریٹریٹ میں منعقدہ دو روزہ قومی تربیتی پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کا مقصد وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے ون ہیلتھ اپروچ کو فروغ دینا ہے۔

وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ حالیہ عالمی صحت بحرانوں نے تیاری کے نظام میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، لہٰذا پاکستان کو منتشر اقدامات سے نکل کر مربوط نگرانی، افرادی قوت کی ترقی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ وبائی امراض سے نمٹنا اب کسی ایک شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ترجیح ہے۔

اس موقع پر ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور شواہد پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ون ہیلتھ ورک فورس ڈویلپمنٹ اینڈ کوآرڈینیشن منصوبے کے قومی کوآرڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود علی نے اس اقدام کو قومی صحت کے تحفظ کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، تیز رفتار شہری پھیلاؤ اور انسان و حیوان کے بڑھتے ہوئے رابطے کے باعث متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 75 فیصد نئی متعدی بیماریاں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں، جس کے پیش نظر مربوط نگرانی کے نظام اور فوری ردعمل کی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

ماحولیاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر محمد آصف صاحبزادہ نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور موسمیاتی تغیر پاکستان میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے لیے ماحولیاتی نگرانی کو صحت کی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

پاکستان ون ہیلتھ الائنس کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ایس ایم مرسلین نے کہا کہ ماضی میں مختلف شعبوں کے درمیان عدم رابطے کے باعث وباؤں کے خلاف ردعمل میں تاخیر ہوئی، اس لیے مربوط نظام اور مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

دو روزہ تربیتی پروگرام میں ماحولیاتی اور صحت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین شریک ہیں، جہاں زونوٹک بیماریوں، موسمیاتی تبدیلی، نگرانی کے نظام، وبائی انٹیلیجنس اور خطرات سے متعلق آگاہی پر خصوصی سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد تربیت یافتہ ماہرین کی ایسی ٹیم تیار کرنا ہے جو ملک بھر میں ون ہیلتھ اپروچ کے نفاذ میں معاون ثابت ہو۔ تربیتی ورکشاپ 8 اپریل کو اسناد کی تقسیم کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے