وفاقی وزارتِ انفارمیشن اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے قومی سیمی کنڈکٹر انسانی وسائل ترقی پروگرام انسپائر کے تحت اپسکلنگ تربیتی پروگرام کے ایوارڈ کی تقریب منعقد کی، جو وزیرِ اعظم کے اسٹریٹجک وژن کے تحت ایک اہم سنگِ میل قرار پاتی ہے۔ اس پروگرام کا ہدف نوجوانوں کو جدید تکنیکی مہارتیں فراہم کر کے ملک کے لیے ایک مضبوط ٹیلنٹ پائپ لائن تیار کرنا ہے اور اسے عالمی صنعت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔اس منصوبے کے لیے منظور شدہ بجٹ ۴٫۸۴۴ ارب روپے ہے، جو سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہنر کی ترقی اور صنعتی شمولیت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ عملدرآمد کی ذمہ داری پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے پاس ہے جو نصابی اور صنعتی تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ سیمی کنڈکٹر تربیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں۔معاہدہ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ اور نیڈ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان رسمی طور پر طے پایا ہے، جس کا مقصد شرکاء کو سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز میں مہارت دینا ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل ڈیزائن اور ویریفیکیشن کے شعبوں میں۔ اس تعاون سے سیمی کنڈکٹر تربیت میں تعلیمی اور عملی تربیت کا امتزاج ممکن ہو گا۔چار ماہہ اپسکلنگ پروگرام میں غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ قائدانہ کردار ادا کرے گا جبکہ نیڈ یونیورسٹی اس پروگرام کے وسیع مقاصد کے حصول میں حصہ ڈالے گی۔ تربیت کی سرگرمیاں اپریل میں ابتدائی مراحل کے بعد مئی ۲۰۲۶ میں باقاعدہ آغاز کر دی جائیں گی، جس کا مقصد جلد از جلد صنعت کے لیے تیار افرادی قوت مہیا کرنا ہے۔ایوارڈ تقریب میں انسپائر پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین، نیڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور غلام اسحاق خان کے ریکٹر سمیت علمی اور صنعتی حلقوں کے اہم شرکاء نے شرکت کی۔ شرکاء نے تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان اس شراکت کو ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شاذہ فاطمہ خواجہ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں عالمی ہائی ٹیک صنعت میں شریک کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز جدید ایجادات اور معاشی نمو کا مرکز ہیں اور ایسے پروگراموں سے پاکستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں شامل ہونے میں مدد ملے گی۔وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تعلیمی اور حکومتی اشتراک ملک کی ڈیجیٹل معیشت کی حکمتِ عملی اور وزیرِ اعظم کے وژنِ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے مؤثر نفاذ کے ضمن میں ایک کلیدی اقدام ہے۔ مستقبل میں سیمی کنڈکٹر تربیت کے ذریعے حاصل ہونے والی مہارتیں ملک کو تکنیکی خود کفالت اور عالمی مسابقت کے قریب لائیں گی۔
