پیٹرول ڈیلرز نے ملک گیر بندش کی دھمکی

newsdesk
3 Min Read
پیٹرول ڈیلرز نے قیمتوں میں اضافے کے خلاف حکومت سے فوری واپسی کا مطالبہ کیا اور نہ ماننے پر ملک گیر پمپس بند کرنے کی دھمکی دی

پیٹرول ڈیلرز نے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر فیصلے کی نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ پالیسیوں نے ڈیلرز کو مالی طور پر شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے اور وہ مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔عبدال سامی خان نے واضح کہا کہ اگر حکومت نے قیمتوں میں اضافے کو واپس نہ لیا تو پیٹرول پمپس بند کرنے کی لازمی کارروائی کی طرف اشارہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی اگر عوام کو ایندھن تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی سے گلگت تک پٹرول پمپس کے مالکان شدید آپریشنل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ پیٹرول ڈیلرز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ متاثرہ تاجروں کو نظرانداز نہ کرے اور فوری ریلیف اقدامات جاری کرے۔پیٹرول پمپس کے کاروبار میں کام کرنے والوں کے مطابق انہیں اکثر اوقات نقدی بہاؤ اور رسد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور قیمتوں میں اضافے نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے جس کے باعث بہت سی جگہوں پر کاروباری سرگرمیاں خطرے میں ہیں۔ ایسے حالات میں پیٹرول ڈیلرز نے کہا ہے کہ انہیں نہ بطور پسماندہ سمجھا جائے نہ کسی پالیسی کے بہانے قربانی بنایا جائے۔اس بیانیے کی حمایت میں، میان مقصود احمد ریحان، صدر پٹرول پمپس ایسوسی ایشن ڈپالپور، نے بھی ڈیلرز کے موقف کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور حکام سے فوری اصلاحی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوری حل نہ نکلا تو مقامی سطح پر بھی ہڑتال یا بندش کے فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔بیان کے مطابق مطالبات پوری نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر بندش کا امکان موجود ہے اور اس کے ممکنہ نتائج کے لئے حکومتی اداروں کو احتیاطی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ پیٹرول ڈیلرز اس وقت حکومتی ردعمل کے منتظر ہیں اور چاہتے ہیں کہ صورتحال جلد معمول پر آئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے