ایک مسافر کو نقلی دستاویزات کے ذریعے یورپ پہنچانے کی کوشش کے دوران روکا گیا اور ابتدائی تفتیش میں اس کے سفر کے منصوبے کے بارے میں غیر تسلی بخش جوابات سامنے آئے۔ اس واقعہ کو وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے انسانی اسمگلنگ کی ایک منظم کوشش قرار دیا اور فوری کارروائی کی۔امگریشن عملے نے عمرہ کے بہانے سعودی عرب جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کرنے والے ملزم محمد ابو بکر کو اترایا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران اس کے موبائل فون کی جانچ پڑتال میں ایسے شواہد ملے جن سے واضح ہوا کہ وہ جدہ پہنچ کر پاکستانی دستاویزات ضائع کرنے اور پھر ترکی کے راستے ہسپانیہ جانے کا منصوبہ رکھتا تھا۔تفصیلی معائنہ کے دوران ملزم کے ہاتھ کی بیگ میں رکھی لیپ ٹاپ اسکرین کے پینل کے پیچھے چھپائے ہوئے دو نقلی ہسپانوی کارڈ برآمد ہوئے جن میں رہائشی کارڈ اور صحت کارڈ سمیت دستاویزات شامل تھیں۔ ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وازیرآباد کے ایک ایجنٹ کے ذریعے اسے ہسپانیہ پہنچانے کے عوض بانوے لاکھ روپے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے اس منصوبے کو ایک منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کی کوشش قرار دیا۔واقعے کے بعد ملزم کو اترایا گیا اور اسے وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے کمپوزٹ سرکل سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا تاکہ قانونی کاررروائیاں عمل میں لائی جا سکیں۔ متعلقہ حکام ایجنٹ اور اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو تلاش کرنے اور گرفتار کرنے کے لیے چھان بین بڑھا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ کیس اکیلا واقعہ نہیں ہے بلکہ تحقیقات کو وسیع کیا جا رہا ہے۔اسی روز گوجرانوالہ زون میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے گیارہ افسران کو ترقی دینے کی ایک سادہ تقریب بھی منعقد کی گئی جس کا اہتمام ڈائریکٹر گوجرانوالہ زون محمد بن اشرف نے کیا۔ تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر سیالکوٹ ائیرپورٹ محمد ریاض خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر سرکل گوجرانوالہ رانا شہباز احمد خان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران اے ایس آئی عمران انور کو سب انسپکٹر مقرر کیا گیا جبکہ ہیڈ کانسٹیبل سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر حفیظ رحمن، میاں وحید، تیمور صدیقی، محمد اشرف، یاسر ادریس، طاہر ذوالفقار، وسیم احمد، متین الرحمان اور سمیع اللہ کو ترقی دی گئی۔ ڈائریکٹر نے ترقی پانے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ترقی ان کے لیے امتحان ہے اور انہوں نے ایمانداری کے ساتھ فرائض انجام دینے اور غفلت سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی۔ڈائریکٹر نے کہا کہ کام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور عوام کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی تاکید کی گئی۔ محفل سادہ انداز میں مکمل ہوئی اور شرکاء کے لیے چائے کا انتظام کیا گیا۔ انسانی اسمگلنگ کے اس ناکام منصوبے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے کی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ نیٹ ورک کے دیگر افراد تک پہنچا جا سکے۔
