اسلام آباد: جامع تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت (MoFE&PT) نے وفاقی نظامتِ تعلیم (FDE) کے تحت 346 تعلیمی اداروں میں "ریمیڈیل تھراپی سروسز کی فراہمی” کے منصوبے کے آغاز کے لیے معاہدہ دستخط کی تقریب منعقد کی۔
یہ شراکت داری نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکالوجی (NIP)، مرکزِ امتیاز، قائداعظم یونیورسٹی کے ساتھ قائم کی گئی، جسے پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حنیف نے باضابطہ شکل دی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سیکرٹری وزارت ندیم محبوب اور وفاقی نظامتِ تعلیم کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
یہ اقدام ڈسلیکسیا بل 2022 کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد سیکھنے میں مشکلات کا شکار طلبہ کے لیے مؤثر اور بروقت معاونت فراہم کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت 60 ماہر ریمیڈیل تھراپسٹس اور 3 تجربہ کار کوآرڈینیٹرز پر مشتمل ٹیم تعینات کی جائے گی جو طلبہ کی تشخیصی جانچ اور تحقیقی بنیادوں پر مبنی علاجی معاونت فراہم کرے گی۔
مزید برآں اس اقدام کے ذریعے ماہر نفسیاتی خدمات اور اساتذہ کی استعداد کار میں اضافہ کو یکجا کرتے ہوئے ایک پائیدار نظام تشکیل دیا جائے گا تاکہ مختلف تعلیمی ضروریات رکھنے والے طلبہ کو رسمی تعلیمی نظام کے اندر اپنی مکمل صلاحیتوں کے اظہار کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
یہ منصوبہ حکومت کے اس عزم کا مظہر ہے کہ ملک میں جامع اور مساوی تعلیم کو فروغ دیا جائے اور ہر بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
