خیبرپختونخوا نے وفاقی اجلاس منسوخی پر تحفظات ظاہر کیے

newsdesk
6 Min Read
وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی اجلاس منسوخی، مالی تاخیر اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی طرف سے قومی اور علاقائی بحران کے حوالے سے بلائے گئے اعلیٰ سطحی اجلاس کی اچانک منسوخی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کی بلا وجہ منسوخی نے وفاقی حکومت کے اشتراکِ عمل اور مربوط پالیسی سازی کے عزم پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ شدید سیاسی اختلافات اور گزشتہ تین سال سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مسلسل سیاسی ظلم و ستم کے باوجود صوبائی حکومت نے قوم کے وسیع مفاد میں اجلاس میں شرکت کا اصولی فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان، ان کی اہلیہ، خاندان، اور جماعت کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے باوجود لیا گیا تھا جو ملکی سیاسی تاریخ میں نایاب نوعیت کا ہے۔علاقائی صورتحال خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان پیدا شدہ کشیدگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس کا پاکستان پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود وفاقی حکومت نے عوام اور پارلیمان کے ساتھ معنی خیز مشاورت نہیں کی اور واضح پالیسی تشریح فراہم نہیں کی گئی، جس سے قومی فیصلہ سازی میں شفافیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ قومی اہمیت کے فیصلے کسی ایک گھرانے یا ادارے تک محدود نہیں رہ سکتے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے والے لیڈرز اور جماعتوں کو قومی فیصلوں میں شامل نہ کیے جانا جمہوری شمولیت کے اصول کے خلاف ہے۔مالی اور وفاقی صوبائی تعلقات کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ نے سخت تحفظات کا اظہار کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار نفاذ پروگرام کے کمیٹی اجلاس کی کارروائی بھی وفاقی جانب سے عدم حاضری کے باعث ملتوی ہو گئی ہے، جو صوبے کے مالی مسائل کے تئیں غیر سنجیدگی کی عکاسی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاقی حکومت نے ایک سو ارب روپے سالانہ دس برس کے لیے دینے کا وعدہ کیا تھا جو کل سات سو ارب روپے بنتے ہیں، مگر اب تک صرف ایک سو اٹھہتر ارب روپے جاری کیے گئے ہیں اور پانچ سو بتیس ارب روپے مستحقہ بقایا ہیں جبکہ موجودہ مالی سال میں کوئی الاٰٹمنٹ شامل نہیں کی گئی۔صوبائی حکومت نے ترقیاتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اپنی محدود وسائط سے چھبیس ارب روپے کی عبوری مالی معاونت بھی فراہم کی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کا حصّہ قومی مالیاتی ایوارڈ میں مناسب طریقے سے شامل نہیں کیا گیا، جو آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں خیبرپختونخوا اور ضم شدہ اضلاع کو تقریباً نو سو چونسٹھ ارب روپے واجب الادا رہے، جن میں سے پنجاب کو پانچ سو ستّر اعشاریہ نو ارب، سندھ کو دو سو اٹھہتر اعشاریہ ایک ارب اور بلوچستان کو ایک سو اٹھارہ اعشاریہ ایک ارب ادا کر دیے گئے۔معاشی انتظام اور عوامی خرچ کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے احتیاطی مالیاتی اقدامات پہلے ہی نافذ کر رکھے ہیں، جن میں عوامی اہلکاروں کے ایندھن کے استعمال میں کمی، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندیاں، بیرونی سفر پر کابینہ کی منظوری، اور میٹنگز کو ورچوئل رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے برعکس وفاقی حکومت نے حالیہ سات ماہ میں پانچ ارب ڈالر سے زائد قرض لیا اور مہنگی طیارہ خریداری اور کچھ پائلٹس کو ستر ہزار ڈالر جیسی تنخواہیں دینے جیسے بلند خرچ جاری رکھے، جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ عوامی مفاد کے پیش نظر مالی ترجیحات کیا ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے اقتصادی اشاریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو چھ اعشاریہ ایک فیصد سے گھٹ کر تین فیصد سے کم ہو گئی ہے، صنعتی سرگرمیاں سکڑتی جا رہی ہیں، ٹیکسٹائل سیکٹر میں بندشیں ہوئی ہیں، تجارتی خسارہ بیس ارب ڈالر سے زائد پہنچ چکا ہے، برآمدات کم ہو رہی ہیں اور نوجوانوں کی بیرونِ ملک ہجرت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ زرعی شعبے میں بھی کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لاگت زندگی میں اضافہ، خاص طور پر پٹرول کی قیمتیں تقریباً تین سو اکیس روپے فی لیٹر تک پہنچنے سے عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس باوجود کہ حالات سنگین ہیں، یقین دلایا کہ خیبرپختونخوا حکومت قومی استحکام کے لیے پرعزم ہے اور بحران کی صورت میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، مگر انہوں نے زور دیا کہ قربانی کا بوجھ تمام صوبوں میں مساوی طور پر تقسیم ہونا چاہیے اور وفاقی حکومت، متعلقہ ادارے اور پارلیمان عوام کے ساتھ شفاف اور مشاورتی انداز اپنائیں تاکہ بروقت اور مربوط اقدامات کے ذریعے ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے